ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 288

سمجھانے کی کوشش کی۔پھر تم دیکھو گے کہ بہت سے آدمی ایسے بھی نکلیں گے جو کہیں گے کہ ہم پر تو ان مولویوں نے اصلیت ظاہر ہی نہیں ہونے دی۔چاہیے کہ جس شخص میں علم اور رشد کا مادہ دیکھا اسی کو اپنا قصہ بتا دیا اور فرداً فرداً واقفیت بڑھاتے رہے۔یہ نہیں کہ سب کے سب ظالم طبع اور شریر ہوتے ہیں بلکہ شریف اور مخلص بھی انہیں میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔لاہور کی نسبت ایک شخص نے رات کے پہلے حصہ میں کشف میں دیکھا کہ زنا، فسق و فجور، بدکاری اور بے حیائی کا بازار بڑا گرم ہے۔تب وہ جاگا اور خیال کیا کہ اگر ایسا ہی حال ہے تو یہ شہر تباہ کیوں نہیں ہوتا؟ مگر جب وہ تہجد کی نماز پڑھ کر پچھلی رات کو پھر سویا تو کیا دیکھتا ہے کہ صدہا آدمی ہیں جو دعاؤں میں مشغول ہیں اور خدا کی یاد میں مصروف ہیں۔کوئی صدقہ و خیرات کر رہے ہیں۔کوئی بیکسوں اور یتیموں کی مدد کر رہے ہیں۔غرض توبہ اور استغفار کابازار گرم ہے۔تب اس نے سمجھا کہ انہیں کی خاطر یہ شہر بچا ہوا ہے۔یہ سنّت اللہ ہے کہ ابرار اخیار کے واسطے بڑے بڑے بدکار اور بدمعاش آدمی بھی بچالئے جاتے ہیں۔یاد رکھو! کچھ نہ کچھ نیک لوگ بھی ضرور مخفی ہوتے ہیں۔اگر سب ہی بُرے ہوں تو پھر دنیا ہی تباہ ہوجاوے۔۱ بلاتاریخ۲ تزکیہءِ اخلاق کی ضرورت بڑے دردِ دل کے ساتھ سلسلہ کلام شروع کیا کہ ہماری جماعت کا اعلیٰ فرض ہے کہ وہ اپنے اخلاق کا تزکیہ کریں ۱ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۵ مورخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۷،۸ ۲حضور کے ان ملفوظات پر کوئی تاریخ درج نہیں۔ایڈیٹر صاحب بدر نے ۲۶؍ستمبر ۱۹۰۷ء کے پرچہ میں صرف اتنا لکھا ہے کہ ’’رات اس قدر لمبی تقریر فرمائی کہ اگر کوئی لکھتا تو رسالہ مرتّب ہوجاتا۔‘‘ اس سے پتا چلتا ہے کہ ۲۶؍ستمبر ۱۹۰۷ء کے قریب کی کسی تاریخ کے یہ ملفوظات ہیں۔(مرتّب)