ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 281 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 281

حضرت امّاں جان کا عظیم نمونہ فرمایا۔مبارک احمد کی وفات پر میری بیوی نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’ خدا کی مرضی کو میں نے اپنے ارادوںپر قبول کر لیا ہے‘‘ اور یہ اس الہام کے مطابق ہے کہ ’’میں نے خدا کی مرضی کےلیے اپنی مرضی چھوڑ دی ہے۔‘‘ فرمایا۔پچیس برس شادی کو ہوئے اس عرصہ میں انہوں نے کوئی واقعہ ایسا نہیں دیکھا جیسا اب دیکھا۔میں نے انہیں کہا تھا کہ ایسے محسن اور آقا نے جو ہمیں آرام پر آرام دیتا رہا۔اگر ایک اپنی مرضی بھی کی تو بڑی خوشی کی بات ہے۔فرمایا۔ہم نے تو اپنی اولاد وغیرہ کا پہلے ہی سے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ یہ سب خدا کا مال ہے اور ہمارا اس میں کچھ تعلق نہیں اور ہم بھی خدا کا مال ہیں جنہوں نے پہلے ہی سے فیصلہ کیا ہوتا ہے ان کو غم نہیں ہوا کرتا۔مومن ضائع نہیں کیا جاتا فرمایا۔میں تو کبھی نہیں مان سکتا کہ جو شخص دل سے خدا تعالیٰ کی طرف قدم رکھے وہ ضائع ہو۔مومن آدمی کبھی ضائع نہیں کیا جاتا۔اس کو دین بھی ملتا ہے اور دنیا بھی، عزّت بھی ملتی ہے اور مال بھی۔انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں مثالی نمونہ فرمایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اپنے گھر میں آکر پوچھاکہ ہمارے گھر میں کیا ہے؟ عائشہؓ نے دو اشرفیاں نکال کر دیں اور کہاکہ یہی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیلی پر رکھ لیں اور کہا کہ کیا حال ہے اس نبی کا جو پیچھے دو اشرفیاں چھوڑ جائے اور پھر اسی وقت تقسیم کر دیں۔فرمایا۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے اگر ہمارے پاس کبھی کچھ ہو تو دوسرے دن سب خرچ ہوجاتا ہے۔جو کچھ ہوتا ہے جماعت کا ہوتا ہے اور وہ بھی لنگر خانہ میں خرچ ہوجاتا ہے۔بعض اوقات کچھ بھی نہیں رہتا اور ہمیں غم پیدا ہوتا ہے۔تب خدا تعالیٰ کہیںسے بھیج دیتا ہے۔اکثر لوگ خدا تعالیٰ کی پوری پوری قدر نہیں سمجھتے۔وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ (الانعام:۹۲) خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے وَ فِي السَّمَآء