ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 282 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 282

رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ(الذّٰاریٰت:۲۳) فرمایا۔اس زمانہ کے فلسفی تو ایسی باتیں کرنے والوں کو نادان، بےوقوف اور پاگل کہتے ہیں۔مگر ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے مجرب اور آزمودہ فلسفہ کو ہم ردّ کس طرح کر سکتے ہیں۔چونکہ خدا پر پورا ایمان نہیں ہوتا اس لیے اس کی راہ میں مال خرچ کرنے سے بھی دریغ کرتے ہیں۔مگر ہمارے خیال میں مال تو پھر مال ہے اس راہ میں تو جانیں بھی قربان کر دینی چاہئیں۔۱ ۲۱؍ستمبر ۱۹۰۷ء (بوقتِ ظہر) سچی خوابوںکے بارہ میں سنّت اللہ فرمایا۔سنّت اللہ اسی طرح سے جاری ہے اور ہمارا اعتقاد بھی یہی ہے کہ بعض لوگوں کو نہ ہی تو خدا کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی ان کے اخلاق عادات اچھے ہوتے ہیں۔مگر جب کسی اپنے پرائے نے مَرنا ہو یا کوئی اور ایسا ہی واقع ہونا ہو تو بعض اوقات خوابوں کے ذریعہ سے کچھ نہ کچھ اطلاع ہوجاتی ہے یہاں تک کہ ایک چوہڑی کو بھی میں نے دیکھا ہے کہ اس کی اکثر خوابیں سچی نکلا کرتی تھیں۔بلکہ ایک پہلے درجہ کی زانیہ اور بدکار عورت کو بھی کچھ نہ کچھ خوابیں آسکتی ہیں اور بازاری عورتیں طوائف وغیرہ بھی اکثر اوقات بیان کیا کرتی ہیں کہ میری فلاں خواب سچی نکلی۔ہاں اگر یہ سوال کیا جاوے کہ خدا نے ایسا کیوں کیا تو اس بات کا جواب یہ ہے کہ تا یہ لوگ ایسا نمونہ پاکر کارخانہ نبوت کو سمجھ لیں اگر ایسا نمونہ نہ ہوتا تو پھر نبیوں کے تعلق کو سمجھنے میں دقّت ہوتی۔یہ سچی بات ہے کہ کافر، فاسق، فاجر سب کو سچی خوابیںکبھی کبھی آیا کرتی ہیں۔اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب تم لوگ باوجود طرح طرح کے عیبوں، فسق و فجور اور دنیا کے گند میں مبتلا ہونے کے ایسی خوابیں دیکھ لیا کرتے ہو تو پھر وہ جو ہر وقت خدا کے پاس رہتے ہیں اور اسی کے آستانہ پر ہر دم گرے رہتے ہیں ان کو سچا کیوں نہ سمجھا جائے۔۱ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۴ مورخہ ۲۴؍ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۸،۹