ملفوظات (جلد 9) — Page 275
مگر یہ فرمایا ہے کہ وہاں پچاسی ہزار آدمی ہلاک ہوں گے اور ساتھ ہی ہمارے ساتھ وعدہ ہے کہ ’’اِنِّیْٓ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ‘‘ اگر یہ افترا ہے تو دکھاؤ کہ ان گیارہ برسوں میں کتنے ہلاک ہوئے؟ دیکھو! فقیر مرزا نے میری نسبت کتنے زور سے یہ پیشگوئی کی کہ یہ شخص آئندہ ماہِ رمضان میں طاعون سے مَرے گا اور بڑا بڑا دعویٰ کیا کہ میرا عرش معلی تک گذر ہوا ہے اور میری نسبت بار بار کہا کہ یہ جھوٹا ہے اور مجھے خدا کی آواز آئی ہے کہ اس پر آئندہ رمضان کی فلاں تاریخ کو بڑا غضب نازل ہوگا اور تباہ ہوجائے گا مگر دیکھو کہ پھر خود ہی طاعون سے ہلاک ہوگیا اور پھر عجیب بات یہ کہ آئندہ رمضان کی اسی تاریخ کو آپ ہی ہلاک ہوگیا جس تاریخ کو میری ہلاکت کی پیشگوئی لکھی تھی۔پھر چراغ الدین کو دیکھو جو بڑا دعویٰ کرتا تھا اور کہتا تھا کہ حضرت عیسٰی نے مجھے عصا دیا ہے اور پھر میری ہلاکت کے لیے بڑی بڑی دعائیں کرتا رہا مگر آخر خود ہی اپنے لڑکوں سمیت طاعون سے مارا گیا۔یہ تو ان پیشگوئی کرنے والوں کے حال ہیں اور ان کے کشفوں اور الہاموں کا حال یہ ہے کہ خدا ان کو کہتا تو کچھ اَور ہے اور ہو کچھ اَور جاتا ہے اور پھر ایک نہیں دو نہیں کئی ہیں۔حقیقۃ الوحی میں ہم نے نمونہ کے طور پر لکھ دیئے ہیں۔دیکھو! غلام دستگیر نے لکھا تھا کہ جیسے مجمع بحار الانوار کے مؤلف کی دعا سے ان کے زمانہ کے مہدی کاذب کا بیڑا غارت ہوا تھا ویسے ہی میری دعا سے مرزا قادیانی جڑ سے کاٹا جاوے۔پھر دیکھو وہ خود ہی تباہ ہوگیا اور یہ باتیں ایسی نہیںجو یونہی چھوڑ دی جاویں بلکہ ان پر غور کرنا چاہیے۔فرمایا۔اصل میں جیسے کافر اور مشرک لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسی اور ٹھٹھے میں اڑانا چاہتے تھے ویسے ہی یہ ہم کو بھی ہنسی ٹھٹھے میں اڑانا چاہتے ہیں۔آپ تو وہ عورتوں کی طرح چھپ کر بیٹھا ہوا ہوگا۔اصل میں دلی میں ہنسی ٹھٹھا بہت ہے۔کوئی دیندار ایسے لفظ کب استعمال کر سکتا ہے کہ ایسا شخص جو نصرانیت کے شرک میں مبتلا ہو اور ایک انسان کو پوجنے والا ہو اصلی مسیح ہے۔خیال تو کرو کہ مسلمان ہو کر اپنے مذہب کو کیسے ہنسی ٹھٹھے میں اڑاتا ہے۔آریہ وغیرہ بھی اپنے مذہب سے ایسے ٹھٹھے نہیں کرتے۔معلوم ہوتا ہے کہ ابھی دلی کی کمبختی کچھ باقی ہے۔۱ ۱الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۵ مورخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۲،۳