ملفوظات (جلد 9) — Page 272
چندولال کے سامنے کتنے جھوٹ بولے۔فسق و فجور کی کوئی حد نہیں رہی اور خاص جھوٹ میں تو ان لوگوں نے وہ کمال حاصل کیا ہے کہ اگر لاکھ آدمی بھی مل کر شہادت دیں تو اعتبار نہیں ہو سکتا۔شیخ یعقوب علی صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ تمہارا ذمہ ہے کہ پیسہ اخبار کی طرف اصلیت کو دریافت کرنے کے لیے ایک خط لکھو بلکہ میں کہتا ہوں کہ خود ہی ایک دو آدمی کرامت علی کے پاس دلی چلے جاؤ اور اس کو یہ اخبار دکھا دو۔کسی شخص نے عرض کی کہ منشی قاسم علی اور ڈاکٹر محمد اسماعیل دلی میں موجود ہیں اور بڑے مخلص ہیں انہیں کو لکھا جاوے۔حضرت نے مولوی محمد احسن صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا۔ہم تو اسی وقت آدمی بھیجنے کو بھی تیار تھے مگر خیر انہیں کو لکھ دو اور تاکیداً لکھ دو کہ ہمارا خط دیکھتے ہی خود اس کے پاس جائیں اور اخبار دکھا دیں۔اگر وہ اقرار کرے تو بھی اس سے لکھوا لیں اور اگر انکار کرے تو بھی لکھوا لیں۔منشی قاسم علی اور ڈاکٹر محمد اسمٰعیل ہمارے خط کو دیکھتے ہی اس کے پاس جاویں اور پوری کوشش سے کام لے کر اس سے اقرار لیں۔ایسی چور کارروائی ٹھیک نہیں ہے۔ان کو تاکیداً لکھ دو کہ خود جا کر اس سے اقرار لیویں اور اس کے ہاتھ سے لکھوائیں۔یہ تو بڑی فیصلہ کی بات ہے۔گویا تمام دنیا کو ایک فیصلہ نے ہی چھڑا دیا ہے۔اس کے پاس ضرور خود جا کر اس کی تصدیق کرانی چاہیے۔معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کرنے کے لیے ایسی پیشگوئیاں کر دیتے ہیں مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ(البقرۃ:۷۳) ایک ہفتہ تک پتا لگ جائےگا کہ اصلیت کیا ہے؟ چاہیے کہ یہی اخبار ان کو بھیج دیا جاوے۔ایسا نہ ہو کہ وہ وہاں سے اخبار ہی تلاش کرتے پھریں۔کرامت علی کے پاس جا کر اخبار کی وہ جگہ اسے دکھلائیں جہاں پیشگوئی درج ہے اور اس کو کہہ دیں کہ ایک بڑی جماعت کے ساتھ تمہارا مقابلہ ہے۔اس کی تصدیق ہم کرنے آئے ہیں۔اور وہ اس بات کی بھی اچھی طرح سے تصدیق کر لیں کہ وہ کون سے ساٹھ آدمی ہیں جن کو چھونے سے ان کی طاعون جاتی رہی اور وہ تندرست ہوگئے۔