ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 18

کون ہوگا اور کون نہیں۔یہی وجہ ہے کہ میں نے تکلیف اٹھا کر اس وقت کچھ کہنا ضروری سمجھا ہے تا میں اپنا فرض ادا کروں۔پس کلمہ کے متعلق خلاصہ تقریر کا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمہارا معبود اور محبوب اور مقصود ہو۔اور یہ مقام اسی وقت ملے گا جب ہر قسم کی اندرونی بدیوں سے پاک ہو جاؤ گے اور ان کو جو تمہارے دل میں ہیں نکال دو گے۔نماز کی حقیقت بعد اس کے سنو! دوسرا اَمر نماز ہے جس کی پابندی کے لیے بار بار قرآن شریف میں کہا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھو کہ اسی قرآن مجید میں ان مصلّیوں پر لعنت کی ہے جو نماز کی حقیقت سے ناواقف ہیں اور اپنے بھائیوں سے بخل کرتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ نماز اللہ تعالیٰ کے حضور ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی بدیوں اور بد کاریوں سے محفوظ کر دے۔انسان درد اور فرقت میں پڑا ہوا ہے اور چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قرب اسے حاصل ہو۔جس سے وہ اطمینان اور سکینت اسے ملے جو نجات کا نتیجہ ہے مگر یہ بات اپنی کسی چالاکی یا خوبی سے نہیں مل سکتی جب تک خدا نہ بُلاوے یہ جا نہیں سکتا۔جب تک وہ پاک نہ کرے یہ پاک نہیں ہوسکتا۔۱ بہتیرے لوگ اس پر گواہ ہیں کہ بارہا یہ جوش طبیعتوں میں پیدا ہوتا ہے کہ فلاں گناہ دور ہو جاوے جس میں وہ مبتلا ہیں لیکن ہزار کوشش کریں دور نہیں ہوتا باوجودیکہ نفس لوّامہ ملامت کرتا ہے لیکن پھر بھی لغزش ہوجاتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ گناہ سے پاک کرنا خدا تعالیٰ ہی کا کام ہے۔اپنی طاقت سے کوئی نہیں ہو سکتا۔ہاں یہ سچ ہے کہ اس کے لیے سعی کرنا ضروری اَمر ہے۔غرض وہ اندر جو گناہوں سے بھرا ہوا ہے اور جو خدا تعالیٰ کی معرفت اور قرب سے دور جا پڑا ہے اس کو پاک کرنے اور دور سے قریب کرنے کے لیے نماز ہے۔اس ذریعہ سے ان بدیوںکو دور کیا جاتا ہے اوراس کی بجائے پاک جذبات بھر دیئے جاتے ہیں یہی سِر ہے جو کہا گیا ہے کہ نماز ۱ بدر سے۔’’طرح طرح کے طوق اور قسما قسم کے زنجیر انسان کی گردن میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ بہتیرا چاہتا ہے کہ یہ دور ہو جاویں پر وہ دور نہیں ہوتے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۱،۲ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۲)