ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 257

جاوے۔اگر وہ اپنی منشا کے موافق خوشیاں مناتا رہے اور جس بات پر اس کا دل چاہے وہی ہوتا رہے تو پھر ہم اس کو خدا کا بندہ نہیں کہہ سکتے۔اس واسطے ہماری جماعت کو اچھی طرح سے یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے دو طرح کی تقسیم کی ہوئی ہے اس لیے اس تقسیم کے ماتحت چلنے کی کوشش کی جاوے۔ایک حصہ تو اس کا یہ ہے کہ وہ تمہاری باتوں کو مانتا ہے اور دوسرا حصہ یہ ہے کہ وہ اپنی منواتا ہے جو شخص ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ خدا ہمیشہ اس کی مرضی کے مطابق کرتا رہے اندیشہ ہے کہ شاید وہ کسی وقت مرتد ہوجاوے۔کوئی یہ نہ کہے کہ میرے پر ہی تکلیف اور ابتلا کا زمانہ آیا ہے بلکہ ابتدا سے سب نبیوں پر آتا رہا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کا بیٹا جب فوت ہوا تھا تو کیا انہیں غم نہیں ہوا تھا۔ایک روایت میں لکھا ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے تھے۔آخر بشریت ہوتی ہے۔غم کا پیدا ہونا ضروری ہے۔مگر ہاں صبر کرنے والوں کو پھر بڑے بڑے اجر ملا کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی ساری کتابوں کا منشا یہی ہے کہ انسان رضا بالقضاء سیکھے۔جو شخص اپنے ہاتھ سے آپ تکلیف میں پڑتا ہے اور خدا کے لیے ریاضات اور مجاہدات کرتا ہے وہ اپنے رگ پٹھے کی صحت کا خیال بھی رکھ لیتا ہے اور اکثر اپنی خواہش کے موافق ان اعمال کو بجا لاتا ہے اور حتی الوسع اپنے آرام کو مدّ ِنظر رکھتا ہے۔مگر جب خدا کی طرف سے کوئی امتحان پڑتا ہے اور کوئی ابتلا آتا ہے تو وہ رگ اور پٹھے کا لحاظ رکھ کر نہیں آتا خدا کو اس کے آرام اور رگ پٹھے کا خیال مدّ ِنظر نہیں ہوتا۔انسان جب کوئی مجاہدہ کرتا ہے تو وہ اپنا تصرف رکھتا ہے مگر جب خدا کی طرف سے کوئی امتحان آتا ہے تو اس میں انسان کے تصرف کا دخل نہیں ہوتا۔انسان خدا کے امتحان میں بہت جلد ترقی کر لیتا ہے اور وہ مدارج حاصل کر لیتا ہے جو اپنی محنت اور کوشش سے کبھی حاصل نہیں کر سکتا اسی واسطے اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن:۶۱) میں اللہ تعالیٰ نے کوئی بشارت نہیں دی مگر وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ الآیۃ(البقرۃ:۱۵۶) میں بڑی بڑی بشارتیں دی ہیں اور فرمایا ہے کہ یہی لوگ ہیںجن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی بڑی برکتیں اور رحمتیں ہوں گی اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔