ملفوظات (جلد 9) — Page 256
۱۶؍ستمبر ۱۹۰۷ء صاحبزادہ مبارک احمد کی وفات پر حضرت اقدس کی تقریر ابتلاؤں کی حکمت فرمایا۔قضاء و قدر کی بات ہے۔اصل مرض سے (مبارک احمد نے ) بالکل مخلصی پالی تھی۔بالکل اچھا ہوگیا تھا۔بخار کا نام نشان بھی نہ رہا تھا۔یہی کہتا رہا کہ مجھے باغ میں لے چلو۔باغ کی خواہش بہت کرتا تھا سو آگیا۔اللہ تعالیٰ نے اس کی پیدائش کے ساتھ ہی موت کی خبر دے رکھی تھی۔تریاق القلوب میں لکھا ہے ’’اِنِّیْ اَسْقُطُ مِنَ اللہِ وَاُصِیْبُہٗ ‘‘ مگر قبل از وقت ذہول رہتا ہے اور ذہن منتقل نہیںہوا کرتا۔پھر ایک جگہ پیشگوئی ہے۔’’ہے تو بھاری مگر خدائی امتحان کو قبول کر۔‘‘ پھر کئی دفعہ یہ الہام بھی ہوا ہے ’’اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا۔‘‘ اور پھر اہل بیت کو مخاطب کر کے فرمایا ہے يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ اور پھر فرمایا ہے يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ اللّٰہَ خَلَقَكُمْ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے لیے یہ بڑا تطہیر کا موقع ہے۔ان کو بڑے بڑے تعلقات ہوتے ہیں اور ان کے ٹوٹنے سے رنج بہت ہوتا ہے۔میں تو اس سے بڑا خوش ہوں کہ خدا کی بات پوری ہوئی۔گھر کے آدمی اس کی بیماری میں بعض اوقات بہت گھبرا جاتے تھے۔میں نے ان کو جواب دیا تھا کہ آخر نتیجہ موت ہی ہونا ہے یا کچھ اَور ہے۔دیکھو ایک جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ(المؤمن:۶۱) یعنی اگر تم مجھ سے مانگو تو قبول کروں گا اور دوسری جگہ فرمایا وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ۔۔۔۔۔۔وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(البقرۃ:۱۵۶تا۱۵۸) اس سے صاف ظاہر ہے کہ خدا کی طرف سے بھی امتحان آیا کرتے ہیں۔مجھے بڑی خوشی اس بات کی بھی ہے کہ میری بیوی کے منہ سے سب سے پہلا کلمہ جو نکلا ہے وہ یہی تھا کہ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ۔کوئی نعرہ نہیں مارا۔کوئی چیخیں نہیں ماریں۔اصل بات یہ ہے کہ دنیا میں انسان اسی واسطے آتا ہے کہ آزمایا