ملفوظات (جلد 9) — Page 255
بیرسٹر۔ہاں ان میں ایثار نفس ہے۔حضرت اقدسؑ۔میں اس بات کو نہیں مانتا میں تو یہ جانتا ہوں اِنَّـمَا الْاَعْـمَالُ بِالنِّیَّاتِ کیا چوروں میں باہم وفاداری کے تعلقات نہیں ہوتے۔ایک خود پھنس جاتا ہے مگر دوسرے کو بچانا چاہتا ہے کنجریوں میں بھی ناپاک تعلقات کے رنگ میں ہمدردی اور ایثار کا اظہار کیا جاتا ہے مگر کیا ان باتوں میں کوئی خوبی ہو سکتی ہے؟۱ اس لیے کہ ان تعلقات کی بنا خدا کے لیے نہیں ہوتی۔سچا اور پاک تعلق جو ہوتا ہے اس کے نمونے اسلام میںپاؤ گے کیونکہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر جو محبت ہوتی ہے وہ صرف اسلام ہی میں ہے۔بیرسٹر۔عملی حالت کو دیکھنا چاہیے۔حضرت اقدسؑ۔یہ تو سچ ہے کہ عملی حالت کو دیکھنا چاہیے مگر پہلے نیت بھی تو دیکھو آپ تو قانون دان ہیں۔قانون میں بھی نیت کا سوال ہوتا ہے۔ظاہری ترقیات سے یہ کبھی نتیجہ نہیں ہوا کرتا کہ نیک نیتی بھی ہے۔بعض ظالم طبع لوگ ایسے بھی گذرے ہیں کہ انہوں نے عالمگیر سلطنتیں پیدا کر لی تھیں مگر لوگ لعنت بھیجتے ہیں۔اس واسطے یہ بالکل سچی بات ہے کہ اِنَّـمَا الْاَعْـمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔خیر یہ ترقیاں بھی نظر آجائیں گی اور ان کی حقیقت کھل جائے گی۔خدا تعالیٰ نے مجھ پر جو کچھ ظاہر کیا ہے اور جس کی میں پیشگوئی کر چکا ہوں کہ ابھی اس زمانہ کے لوگ زندہ ہوں گے جو یہ۲ تباہ ہوجائیں گے۔ایسی ترقیوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ترقی وہی مبارک ہوگی جو خدا تعالیٰ کے احکام کی پابندی سے ہو۔۳ ۱ معلوم ہوتا ہے یہاں ’’ہرگز نہیں‘‘ کے الفاظ کاتب کی غلطی سے رہ گئے ہیں۔(مرتّب) ۲حضور کا اشارہ آریوں کی طرف ہے جن کا اوپر ذکر ہوا۔(مرتّب) ۳الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۷ مورخہ ۶؍مارچ۱۹۰۸ء صفحہ ۶