ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 237

کہ لوگ جو کچھ طیب خاطر سے دیں وہ قبول کیا جائے کسی قسم کا اصرار نہ ہو۔کوئی شخص ایک پیسہ دے خواہ ایک دھیلہ دے اس کو خوشی کے ساتھ قبول کر لینا چاہیے۔کسر صلیب کی حقیقت فرمایا۔چند روز سے میرے دل میں خیال تھا کہ کسر صلیب سے کیا مراد ؟یہ بات تو صحیح نہیں ہو سکتی کہ مسیح لکڑی یا پتھر کی صلیبیں توڑتا پھرے۔اس سے کچھ حاصل نہیں۔بعد سوچنے کے یہی بات دل میں آئی کہ اس کا یہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ ایک زمانہ ہی ایسا لائے گا کہ اس میں خود بخود آسمان سے ایک ہوا ہی ایسی چلے گی کہ خواہ مخواہ عیسائیت کے بیہودہ مذہب سے لوگوں کے دل ٹھنڈے پڑنے لگ جائیں گے۔عیسائیت جیسے مذہب کو دنیا سے مٹانا اور چالیس کروڑ آدمی کی اصلاح کرنا یہ واحد جان کا کام نہیں ہو سکتا۔جب تک کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے دلوں میں ایسی تحریک نہ ہو۔جس سے وہ خود بخود اس مذہب سے بیزار ہوتے چلے جائیں۔اور اگر غور سے دیکھو تو یہ کارروائی شروع ہوگئی۔لوگ تربیت یافتہ ہوتے جاتے ہیں اور عقلی اور دماغی قوتیں بڑھتی جاتی ہیں۔اب ایسی کچی باتوں کو کون مان سکتا ہے۔اگر تھوڑا بہت کچھ ایمان ہے تو عورتوں میں ہے اور بس۔پرچوں کا تبادلہ جاری رکھنا چاہیے مولوی ثناء اللہ صاحب کے پرچہ اہلحدیث کے تبادلہ میں یہاں سے میگزین اردو جاتا تھا۔مینیجر ریویو نے بدیں خیال کہ یہاں اہلحدیث اور دفتروں میں آتا رہتا ہے ضروری نہ سمجھا کہ اس کے ساتھ تبادلہ وہ بھی جاری رکھیں اس واسطے بند کر دیا تھا۔جس پر مولوی ثناء اللہ صاحب نے حضرت کے نام ایک کارڈ لکھا کہ کیا یہ تجویز آپ کی منظوری سے ہوئی ہے۔اس پر حضرت نے دریافت کیا کہ تبادلہ کیوں بند کیا گیا ہے؟ اور پھر فرمایاکہ تبادلہ جاری رکھنے میں یہ فائدہ ہے کہ مولوی صاحب پر اتمامِ حجّت ہوتا رہے گا اور شاید کوئی بندہ خدا ان کے دفتر میں اس کو پڑھ کر اس سے مستفید ہو جاوے۔۱ ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۳۶ مورخہ ۵؍ستمبر ۱۹۰۷ءصفحہ ۵،۶