ملفوظات (جلد 9) — Page 236
یعنی یا تو انسان خدا تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہو یا دنیاوی دھندے مثلاً مقدمہ بازی وغیرہ میں لگے۔ایک طرف کا ہی کام ہو سکتا ہے۔دو طرفہ چلنا مشکل ہے۔سلسلہ کے کارکنان کی صفات اس اَمر کا ذکر تھا کہ سلسلہ حقّہ کے واسطے واعظ مقرر کئے جاویں جو مختلف شہروں اور گاؤں میں جا کر وعظ بھی کریں اور ضروریاتِ اسلام کے واسطے چندے بھی جمع کریں۔حضرت نے فرمایا کہ جب تک کسی میں تین صفتیں نہ ہوں وہ اس لائق نہیں ہوتا کہ اس کے سپرد کوئی کام کیا جائے۔اور وہ صفتیں یہ ہیں۔دیانت، محنت، علم۔جب تک کہ یہ تینوں صفتیں موجود نہ ہوں۔تب تک انسان کسی کام کے لائق نہیں ہوتا۔اگر کوئی شخص دیانتدار اور محنتی بھی ہو لیکن جس کام میں اس کو لگایا گیا ہے۔اس فن کے مطابق علم اور ہنر نہیں رکھتا۔تو وہ اپنے کام کو کس طرح سے پورا کر سکے گا۔اور اگر علم رکھتا ہے، محنت بھی کرتا ہے دیانتدار نہیں تو ایسا آدمی بھی رکھنے کے لائق نہیں۔اور اگر علم و ہنر بھی رکھتا ہے اپنے کام میں خوب لائق ہے اور دیانت دار بھی ہے مگر محنت نہیں کرتا تو اس کا کام بھی ہمیشہ خراب رہے گا۔غرض ہر سہ صفات کا ہونا ضروری ہے۔فرمایا۔کارکن آدمی ہرجگہ جماعت کے اندر مل سکتے ہیں ایسے لوگوں کو ذاتی اخراجات کے واسطے جو کچھ دیا جاوے وہ بھی ناگوار نہیں گذرتا خواہ وہ معمولی واعظ کی تنخواہ سے زیادہ ہو کیونکہ کارکن کوجو کچھ دیا جائے وہ ٹھکانے پر لگتا ہے اس میں کوئی اسراف نہیں۔سیکھوانی برادران سیکھوانی برادران میاں جمال الدین، میاں امام الدین، میاں خیر الدین صاحبان کا ایک دوست نے ذکر کیا کہ وہ بھی اس کام کے واسطے رکھے جا سکتے ہیں۔حضرت نے فرمایا۔بیشک وہ بہت موزوں ہیں۔مخلص آدمی ہیں۔ہمیشہ اپنی طاقت سے بڑھ کر خدمت کرتے ہیں۔تینوں بھائی ایک ہی صفت کے ہیں۔میں نہیں جانتا کہ کون ان میں سے دوسروں سے بڑھ کر ہے۔محصّلین کے لیے ہدایت فرمایا۔بیرون جات میں جو لوگ چندہ لینے کے واسطے بھیجے جاویں ان کو سمجھا دیں کہ چندہ ایسے طور سے وصول کرنا چاہیے