ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 235

خوراک ہے۔پھر ریشم کو لو جو کیڑوں کو مارنے سے نکلتا ہے۔پھر شہد کو دیکھو جو ہزار ہا مکھیوں سے چھین کر انسان اپنے منہ میں ڈال لیتا ہے۔حالانکہ مکھی ایک غریب اور چھوٹا ساجانور ہے۔پھر کستوری کو دیکھو جو آریوں اور ہندوؤں کی عبادت میں مانند شہد کے استعمال ہوتی ہے وہ ایک ہرن کو مار کر اس کی ناف میں سے نکالی جاتی ہے۔پھر موتی کو لو جن کے تاجر سب ہندو ہی چلے آتے ہیں۔وہ بھی جانور کو مار کر اس کے پیٹ میں سے نکالا جاتا ہے۔پھر انسان اپنے پاؤں کی جوتی کو ہی دیکھے کہ وہ کس سے بنتی ہے۔غرض کس کس چیز کو گنا جائے۔کیا لباس انسانی، کیا خوراکِ انسانی، کیا دیگر ضروریات سب میں اس قسم کی اشیاء ہیں جو کسی جاندار کے مارنے سے ہی حاصل ہو سکتی ہیں۔بعض انسانوں کو ایسی بیماری ہوتی ہے کہ ان کے ناک میں کیڑے پڑ جاتے ہیں لاجرم ان کیڑوں کو مارنا پڑتا ہے۔بعض آدمیوں کے زخموں میں کیڑے پڑ جاتے ہیں تو زخم کے اندر ایسی دوائی ڈالی جاتی ہے جس سے وہ کیڑے مَر جاویں۔ایامِ وبا میں جب کنوئیں کے پانی میں کیڑے ہوجاتے ہیں تو کنوئیں کے اندر دوائی ڈال دی جاتی ہے تاکہ وہ کیڑے مَر جاویں۔کس کس شَے کا ذکر کیا جائے ہندوؤں کے بڑے بڑے بزرگ راجہ رام چندر وغیرہ سب شکار کھیلتے تھے۔خدا کے قانون کی رعایت رکھ کر دیکھنا چاہیے کہ آیا بغیر اس کے انسان کا گذارہ چل سکتا ہے؟ ایمان میں عورتوں کی مسابقت فرمایا۔بہت عورتیں گھر میں آکر بیعت کرتی ہیں۔ان کے نام مبائعین کے درمیان لکھنے کا تاحال کوئی انتظام نہیں ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض عورتیں بسبب اپنی قوت ایمانی کے مَردوں سے بڑھی ہوئی ہوتی ہیں۔فضیلت کے متعلق مَردوں کا ٹھیکہ نہیں۔جس میں ایمان زیادہ ہوا وہ بڑھ گیا۔خواہ مرد ہو خواہ عورت ہو۔خدا تعالیٰ کو مقدم رکھیں ایک دوست جو باوجود ایک لمبی رخصت لینے کے قادیان نہ آسکے تھے کیونکہ وہ ایک عمارت بنوا رہے ہیں۔ایک دو روز کے واسطے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے کسی نے عرض کی کہ ان کی رخصت لمبی ہے ان کو قادیان رہنا چاہیے۔فرمایا۔ایک پنجابی ضرب المثل ہے کہ ؎ یا تو ں لوڑ مقدّمیں یا اللہ نوں لوڑ