ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 234

کچھ اچھی تھی۔اس نے صفائی سے کہہ دیا کہ یہ خالص اللہ کے لیے نہیں ہے بلکہ اس میں دنیا کی ملونی بھی ہے۔اگر کوئی فعل انسان خاص خدا کے لیے کرے تو وہ انسان کو یکدفعہ آسمان پر لے جاتا ہے۔براہین کا اشتہار صدق نیت سے تھا فرمایا۔جبکہ ہم نے براہین احمدیہ کا اشتہار دیا کہ اگر کوئی ان دلائل کو توڑے تو اس کو ہم دس ہزار روپیہ دیں گے تو یہ اشتہار صدق نیت سے تھا۔ہم نے اتنا ہی روپیہ لکھا تھا جتنا کہ ہم دے سکتے تھے اور یہی اس وقت ہمارے پاس جمع ہو سکتا تھا۔صرف اسلام کی محبت کے واسطے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت کے قائم کرنے کی خاطر ہم نے ایسی کتاب لکھی اور اس کے ساتھ اتنا اشتہار دیا ورنہ ہم کو ہرگز وہم گمان بھی نہ تھا کہ ہم اس کے ذریعہ سے کوئی روپیہ کمائیں اور کسی قسم کی دنیوی ملونی اس میں نہ تھی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمیں دس ہزار چھوڑ ایک روپیہ بھی نہ دینا پڑا بلکہ کئی دس ہزار روپیہ اس کے بعد ہمارے پاس آیا۔یہ خلوصِ نیت کا نتیجہ ہے۔مثالی طبیب ایک بیمار جو کہ باہر سے حضرت مولوی نور الدین صاحب کے پاس معالجہ کے واسطے آیا تھا۔حضرت کی خدمت میں بھی سلام کے واسطے حاضر ہوا۔حضرت نے اثنائے گفتگو میں فرمایا کہ مولوی صاحب کا وجود از بس غنیمت ہے۔آپ کی تشخیص بہت اعلیٰ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بیمار کے واسطے دعا بھی کرتے ہیں۔ایسے طبیب ہرجگہ کہاں مل سکتے ہیں؟ گوشت خوری کا جواز مذکورہ بالا بیمار ہندو تھا حضرت نے اس سے دریافت کیا کہ کیا آپ لوگ گوشت کھایا کرتے ہیں؟ اس نے عرض کی کہ ہاں میں کھایا کرتا ہوں۔حضرت نے فرمایا کہ ایسی بیماریوں میں قوت کے قائم رکھنے کے واسطے گوشت کی یخنی مفید ہوتی ہے اور وہ لوگ بے وقوف ہیں جو کہتے ہیں کہ گوشت حرام ہے۔طبیب اور ڈاکٹر لوگ جانتے ہیں کہ انسان کے واسطے گوشت کی خوراک کیسی مفید ہے کس قدر انسانی ضرورتیں ہیں جو مثل گوشت کے ہیں۔اگر جانوروں پر رحم کے یہ معنے ہیں کہ گوشت حرام کیا جاوے تو پھر تو بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کو حرام کرنا پڑے گا۔اوّل تو دودھ کو ہی حرام کرنا چاہیے کیونکہ یہ جانوروں کے بچوں کی