ملفوظات (جلد 9) — Page 231
۲۳؍اگست ۱۹۰۷ء (بوقتِ عصر) ڈاکٹر عبد الحکیم کا دعویٰ مسیحیت ڈاکٹر عبد الحکیم خاں مرتد کی مسیحیت کا ذکر تھا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہمارا نام وہ دجّال رکھتا ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ بیس برس تک دجّال ہی کا مصدق رہا ہے اور اسی کے ماتحت رہا ہے۔بھلا کوئی دنیا میں ایسا بھی مسیح گذرا ہے جو بیس سال تک دجّال کے ماتحت رہا ہو۔ایک ہندو نے عبد الحکیم کی نسبت لکھا ہے کہ جن کی وہ بیعت ہے ان کی زبان سے تو کوئی گندہ لفظ تک نہیں نکلا مگر یہ بڑا کمبخت ہے کہ جس کی بیس برس تک بیعت میں رہا ہے اس کو گالی نکالتا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ اس سوال کے جواب سننے کا مجھے بہت شوق ہے کہ وہ کیسا مسیح ہے جو بیس برس تک دجّال کے ماتحت رہے۔کیسی عجیب بات ہے کہ سچا بھی تھا، مسیح بھی تھا اور رسول بھی تھا مگر بیس برس تک دجّال کی بیعت رہا۔اس کا مصدق رہا۔اس کی تائید میں سچی خوابیں، رؤیا اور الہامات بھی سناتا رہا۔ایک شخص کی بابت کسی کو لکھتا ہے کہ مجھے یہ خواب آئی ہے کہ یہ شخص طاعون سے ہلاک ہوگا کیونکہ یہ سچے مسیح کا منکر ہے اور پھر اس خواب کے سچا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔اس پر ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ حضور اس کے دل میں تو یہ بات ہوگی کہ آپ ہی حقیقت میں سچے مسیح ہیں۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ دل مسخ ہوگیا ہے۔مسیلمہ کذاب کی طرح پہلے مانا پھر انکار کر دیا۔خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ (البقرۃ:۸) کے بھی یہی معنے ہیں۔مسیلمہ کذاب کی تو پہلے نظیر بھی موجود تھی مگر اس کی تو نظیر بھی کوئی نہیں۔۱ ۱الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۱ مورخہ ۳۱؍اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۳ نیز بدر جلد ۶ نمبر ۳۶ مورخہ ۵؍ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۶