ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 14

زندگی میں وہ جنّت میں ہوتا ہے۔یہ سچی بات ہے اور جلد سمجھ میں آجاتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے سوا انسان کا کوئی محبوب اور مقصود نہ رہے تو پھر کوئی دکھ یا تکلیف اسے ستا ہی نہیں سکتی۔یہ وہ مقام ہے جو ابدال اور قطبوں کو ملتا ہے۔آپ یہ خیال نہ کریں کہ ہم کب بتوں کی پرستش کرتے ہیں۔ہم بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرتے ہیں۔یاد رکھو! یہ تو ادنیٰ درجہ کی بات ہے کہ انسان بتوں کی پرستش نہ کرے۔ہندو لوگ جن کو حقائق کی کوئی خبر نہیں اب بتوں کی پرستش چھوڑ رہے ہیں۔معبود کا مفہوم اسی حد تک نہیں کہ انسان پرستی یا بُت پرستی تک ہو اور یہی معبود ہیں اور یہی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ہوائے نفس اور ہوس بھی معبود ہیں۔جو شخص نفس پرستی کرتا ہے یا اپنی ہوا و ہوس کی اطاعت کر رہا ہے اور اس کے لیے مَر رہا ہے وہ بھی بُت پرست اور مشرک ہے۔یہ لا نفی جنس ہی نہیںکرتا بلکہ ہر قسم کے معبودوںکی نفی کرتا ہے خواہ وہ اَنفسی ہوں یا آفاقی۔خواہ وہ دل میں چھپے ہوئے بُت ہیں یا ظاہری بُت ہیں۔مثلاً ایک شخص بالکل اسباب ہی پر توکل کرتا ہے تو یہ بھی ایک قسم کا بُت ہے۔اس قسم کی بُت پرستی تپ دق کی طرح ہوتی ہے جو اندر ہی اندر ہلاک کر دیتا ہے۔موٹی قسم کے بُت تو جھٹ پٹ پہچانے جاتے ہیں اور ان سے مخلصی حاصل کرنا بھی سہل ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ لاکھوں ہزاروں انسان ان سے الگ ہو گئے اور ہو رہے ہیں۔یہ ملک جو ہندوؤں سے بھرا ہوا تھا کیا سب مسلمان ان میں سے ہی نہیںہوئے؟ پھر انہوں نے بُت پرستی کو چھوڑا یا نہیں؟ اور خود ہندوؤں میں بھی ایسے فرقے نکلتے آتے ہیں جو اب بُت پرستی نہیں کرتے۔لیکن یہاں تک ہی بُت پرستی کا مفہوم نہیں ہے۔یہ تو سچ ہے کہ موٹی بُت پرستی چھوڑ دی ہے مگر ابھی (بقیہ حاشیہ) کے اور کوئی اس کا پیارا نہیں رہتا۔بجز خدا کے کوئی اس کا معبود نہیں رہتا اوربجز خدا کے کوئی اس کا مطلوب باقی نہیں رہتا۔وہ مقام جو ابدال کا مقام ہے اور وہ جو قطب کا مقام ہے اور وہ جو غوث کا مقام ہے وہ یہی ہے کہ کلمہ لَاۤاِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ پر دل سے ایمان ہو اور اس کے سچے مفہوم پر عمل ہو۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۱،۲ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۱)