ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 13

متوجہ ہو اور درحقیقت دنیا پر دین کو مقدم کر دے۔یاد رکھو! مخلوق کو انسان دھوکا دے سکتا ہے اور لوگ یہ دیکھ کر کہ پنج وقت نماز پڑھتا ہے یا اور نیکی کے کام کرتا ہے دھوکا کھا سکتے ہیں۔مگر خدا تعالیٰ دھوکا نہیں کھا سکتا۔اس لیے اعمال میں ایک خاص اخلاص ہونا چاہیے یہی ایک چیز ہے جو اعمال میں صلاحیت اور خوبصورتی پیدا کرتا ہے۔اب یاد رکھنا چاہیے! کہ کلمہ جو ہم ہر روز پڑھتے ہیں اس کے کیا معنے ہیں؟ کلمہ کے یہ معنے ہیں کہ انسان زبان سے اقرار کرتا ہے اور دل سے تصدیق کہ میرا معبود، محبوب اور مقصود خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں۔اِلٰہ کا لفظ محبوب اور اصل مقصود اور معبود کے لیے آتا ہے۔یہ کلمہ قرآن شریف کی ساری تعلیم کا خلاصہ ہے جو مسلمانوں کو سکھایا گیا ہے۔چونکہ ایک بڑی اور مبسوط کتاب کا یاد کرنا آسان نہیں۔اس لیے یہ کلمہ سکھا دیا گیا تاکہ ہر وقت انسان اسلامی تعلیم کے مغز کو مد نظر رکھے۱ اور جب تک یہ حقیقت انسان کے اندر پیدا نہ ہو جاوے سچ یہی ہے کہ نجات نہیں۔اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مَنْ قَالَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ یعنی جس نے صدق دل سے لَاۤاِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کو مان لیا وہ جنّت میں داخل ہوگیا۔لوگ دھوکا کھاتے ہیں اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ طوطے کی طرح لفظ کہہ دینے سے انسان جنّت میں داخل ہوجاتا ہے۔اگر اتنی ہی حقیقت اس کے اندر ہوتی تو پھر سب اعمال بےکار اور نکمے ہوجاتے اور شریعت (معاذ اللہ) لغو ٹھہرتی۔نہیں! بلکہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ مفہوم جو اسی میں رکھا گیا ہے وہ عملی رنگ میں انسان کے دل میں داخل ہو جاوے۔جب یہ بات پیدا ہو جاتی ہے تو ایسا انسان فی الحقیقت جنّت میں داخل ہوجاتا ہے۔۲ نہ صرف مَرنے کے بعد بلکہ اسی ۱ بدر میں ہے۔’’اللہ تعالیٰ حکیم ہے۔اس نے ایک مختصر سا کلمہ سنا دیا ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ جب تک خدا کو مقدم نہ کیا جاوے جب تک خدا کو معبود نہ بنایا جاوے جب تک خدا کو مقصود نہ ٹھہرایا جاوے انسان کو نجات حاصل نہیں ہو سکتی۔‘‘ (بدر جلد ۶نمبر ۱،۲ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۱) ۲ بدر سے۔’’خدا تعالیٰ الفاظ سے تعلق نہیں رکھتا وہ دلوں سے تعلق رکھتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ درحقیقت اس کلمہ کے مفہوم کو اپنے دل میں داخل کر لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عظمت پورے رنگ کے ساتھ ان کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہےوہ جنّت میں داخل ہوجاتے ہیں۔جب کوئی شخص سچے طور پر کلمہ کا قائل ہوجاتا ہے تو بجز خدا