ملفوظات (جلد 9) — Page 222
جاوے۔اتنے نشانات ہیں کسی کی نظیر تو پیش کریں اَور نشان جانے دو ان سے کوئی پوچھے کہ چھبیس ستائیس سال ہمیں دعویٰ کئے گذر گئے اور ہزاروں نشانات ہماری تائید میں ظاہر ہوئے۔کسی ایسے جھوٹے کی نظیر تو پیش کرو جس نے خدا پر افترا کیا ہو اور اتنی مہلت اور نشانات اس کی تائید میں دکھائے گئے ہوں۔خدا نے اس کے مخالف ہلاک، تباہ اور ذلیل کر دیئے ہوں۔حالانکہ خدا جانتا تھا کہ وہ مفتری ہے۔بھلا کوئی نظیر تو دو۔سنّت اللہ اسی طرح سے ہے کہ جب کوئی خدا کی طرف سے مامور ہوکر آتا ہے تو عبد الحکیم وغیرہ کی طرح بعض لوگ الہام کے دعویدار بن بیٹھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بھی رسول ہیں۔مگر ایسے دعویٰ کرنے والے ہمیشہ بعد میں ہوتے ہیں۔دیکھو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعویٰ کرلیا اور اس کی اچھی طرح سے شہرت ہوگئی تب مسیلمہ کذاب وغیرہ نے بھی دعویٰ کر دیا۔ایسا ہی ہمیں بھی چھبیس ستائیس برس دعویٰ کئے گذر گئے تو ان لوگوں کو بھی دعوے یاد آگئے۔سچے مدّعی کی نشانی مگر یاد رکھو کہ سچے کی نشانی یہ بھی ہے کہ وہ سب سے پہلے دعویٰ کرتا ہے وہ کسی کی رِیس نہیں کرتا۔ابو سفیان وغیرہ جب کفر کے زمانہ میں قیصر کے پاس گئے تو اس نے ان سے یہی پوچھا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے پہلے بھی کسی نے دعویٰ کیا ہوا ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔تب اس نے کہا کہ اگر اس سے پہلے کوئی دعویٰ کرنے والا ہوتا تو میں سمجھتا کہ یہ ریس کرتا ہے۔ابتداء ً دعویٰ کرنا یہ سچے کی شناخت پر ایک بڑی بھاری دلیل ہے۔دیکھو چھبیس ستائیس برس گذر چکے ہیں۔اس عرصہ میں تو ایک بچہ بھی پیدا ہو کر باپ بن سکتا ہے۔۱ ۱۷؍اگست ۱۹۰۷ء (بوقت عصر) نئے نشانات کا ظہور حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ آج رات کے دو بجے الہام ہوا تھا اِنَّ خَبَـرَ رَسُوْلِ اللہِ وَاقِعٌ جس سے ۱ الحکم جلد ۱۱نمبر ۳۰ مورخہ ۲۴؍اگست ۱۹۰۷ءصفحہ۱۱