ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 218 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 218

۶؍اگست ۱۹۰۷ء کھانا کھلانے کا ثواب مُردوں کو پہنچتا ہے ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ اگر کوئی شخص حضرت سید عبدالقادر کی روح کو ثواب پہنچانے کی خاطر کھانا پکا کر کھلاوے تو کیا یہ جائز ہے؟ حضرت نے فرمایا کہ طعام کا ثواب مُردوں کو پہنچتا ہے۔گذشتہ بزرگوں کو ثواب پہنچانے کی خاطر اگر طعام پکا کر کھلایا جائے تو یہ جائز ہے لیکن ہر ایک اَمر نیت پر موقوف ہے۔اگر کوئی شخص اس طرح کے کھانے کے واسطے کوئی خاص تاریخ مقرر کرے اور ایسا کھانا کھلانے کو اپنے لیے قاضی الحاجات خیال کرے تو یہ ایک بُت ہے اور ایسے کھانے کا لینا دینا سب حرام ہے اور شرک میں داخل ہے۔پھر تاریخ کے تعین میں بھی نیت کا دیکھنا ہی ضروری ہے۔اگر کوئی شخص ملازم ہے اور اسے مثلاً جمعہ کے دن ہی رخصت مل سکتی ہے تو ہرج نہیں کہ وہ اپنے ایسے کاموں کے واسطے جمعہ کا دن مقرر کرے۔غرض جب تک کوئی ایسا فعل نہ ہو جس میں شرک پایا جائے صرف کسی کو ثواب پہنچانے کی خاطر طعام کھلانا جائز ہے۔قرآن شریف کے اوراق کا ادب ایک شخص نے عرض کی کہ قرآن شریف کے بوسیدہ اوراق کو اگر بے ادبی سے بچانے کے واسطے جلادیا جائے تو کیا جائز ہے؟ فرمایا۔جائز ہے حضرت عثمانؓنے بھی بعض اوراق جلائے تھے۔نیت پر موقوف ہے۔۱ ۱بدر جلد ۶ نمبر ۳۲ مورخہ ۸؍اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۵