ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 219

۱۳؍اگست ۱۹۰۷ء ادائیگی قرض کی اہمیت ایک شخص کا ذکر ہوا کہ وہ ایک دوسرے شخص کی امانت جو اس کے پاس جمع تھی لے کر کہیں چلا گیا ہے۔فرمایا۔ادائے قرضہ اور امانت کی واپسی میں بہت کم لوگ صادق نکلتے ہیں اور لوگ اس کی پروا نہیں کرتے حالانکہ یہ نہایت ضروری اَمر ہے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے جس پر قرضہ ہوتا تھا۔دیکھا جاتا ہے کہ جس التجا اور خلوص کے ساتھ لوگ قرض لیتے ہیں اسی طرح خندہ پیشانی کے ساتھ واپس نہیں کرتے بلکہ واپسی کے وقت ضرور کچھ نہ کچھ تنگی ترشی واقع ہوجاتی ہے۔ایمان کی سچائی اسی سے پہچانی جاتی ہے۔۱ ۱۵؍اگست ۱۹۰۷ء (بعد از نماز ظہر) سچے سلسلہ کی مخالفت اس کی صداقت کا نشان ہے ایک شخص نور محمد نامی نے بیعت کے واسطے عرض کی۔فرمایا۔عصر کے وقت کر لینا۔عصر کے وقت جب حضرت تشریف لائے تو وہ شخص بیعت کے لیے آگے بڑھا۔حضرت نے فرمایا۔جس جس نے بیعت کرنی ہے آجاؤ۔چونکہ جگہ تنگ اور لوگ زیادہ تھے۔حضرت نے فرمایا۔تم لوگ ایک دوسرے کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ دو۔بیعت کے بعد حضرت صاحب نے اس شخص کو مخاطب کر کے فرمایا۔کیا آپ ملتان سے آئے ہیں؟ شخص۔حضور ملتان سے ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۳۲ مورخہ ۵؍ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۶