ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 217

فاضل اور مولوی لوگ اس جگہ ٹھوکر کھاگئے ہیں۔۱ اگست ۱۹۰۷ء ۲ ہر ایک کے واسطے تفتیش کرنا منع ہے ایک شخص نے عرض کی کہ میں ایک گاؤں میں دوکان پر گڑشکر بیچتا ہوں۔بعض دفعہ لڑکے یا زمینداروں کے مزدور اور خادم چاکر کپاس یا گندم یا ایسی شَے لاتے ہیں اور اس کے عوض میں سودا لے جاتے ہیں جیساکہ دیہات میں عموماً دستور ہوتا ہے لیکن بعض لڑکے یا چاکر مالک سے چوری ایسی شَے لاتے ہیں۔کیا اس صورت میں ان کو سودا دینا جائز ہے یا کہ نہیں؟ فرمایا۔جب کسی شَے کے متعلق یقین ہو کہ یہ مالِ مسروقہ ہے تو پھر اس کا لینا جائز نہیں لیکن خواہ مخواہ اپنے آپ کو بد ظنی میں ڈالنا اَمر فاسد ہے۔ایسی باتوں میں تفتیش کرنا اور خواہ مخواہ لوگوں کو چور ثابت کرنے کی کوشش کرنا دوکاندار کا کام نہیں۔اگر دوکاندار ایسی تحقیقاتوں میں لگے گا تو پھر دوکانداری کس وقت کرے گا؟ ہر ایک کے واسطے تفتیش کرنا منع ہے۔قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ گائے ذبح کرو۔بہتر تھا ایک گائے پکڑ کر ذبح کر دیتے۔حکم کی تعمیل ہوجاتی۔انہوں نے خواہ مخواہ اور باتیں پوچھنی شروع کیں کہ وہ کیسی گائے ہے اور کیسا رنگ ہے اور اس طرح کے سوال کر کے اپنے آپ کو اور دقّت میں ڈال دیا۔بہت مسائل پوچھتے رہنا اور باریکیاں نکالتے رہنا اچھا نہیں ہوتا۔۳ ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۳۲ مورخہ ۸؍اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۸،۹ نیز الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲۹ مورخہ ۱۷؍اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۱ ۲اس ڈائری پر صرف اگست ۱۹۰۷ء لکھا ہے۔قیاس یہ ہے کہ یہ ملفوظات ۲ تا ۵ اگست کی کسی تاریخ کے ہیں۔واللہ اعلم بالصواب (مرتّب) ۳بدر جلد ۶ نمبر ۳۲ مورخہ ۸؍اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۵