ملفوظات (جلد 9) — Page 213
کسی ڈپٹی کے پیچھے پھرتا تھا۔میں حیران ہوا کہ اگر اس شخص میں سچی نیکی ہوتی اور یہ خدا پر توکل کرنے والا ہوتا تو ایسے مکدرات میں کیوں گرتا۔مذہب فروشی سکھانے والے پادری ایک شخص کا ذکر ہوا کہ وہ دیسی عیسائی ہے اور مسلمان ہونا چاہتا ہے مگر روپے مانگتا ہے یا تنخواہ مانگتا ہے حالانکہ لیاقت کچھ نہیں۔حضرت نے فرمایا کہ پادریوں نے ہندوستانیوں کے اخلاق خراب کر دئیے ہیں اور ان کو مذہب فروش بنا دیا ہے۔کئی عیسائی دیکھے ہیں کہ وہ ہندوؤں یا مسلمانوں کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مسلمان یا ہندو ہونے کے واسطے تیار ہیں لیکن عیسائی لوگ ہم کو اس قدر تنخواہ دیتے ہیں تم کیا تنخواہ دو گے؟ جدھر سے زیادہ تنخواہ کی امید ہو ادھر ہی جھک پڑتے ہیں اور بسا اوقات کبھی ادھر سے اور کبھی ادھر سے بطور نیلام کے اپنی قیمت کے بڑھانے میں کوشش کرتے رہتے ہیں۔یہ بد اخلاقی ہندوستان میں پادریوں نے ہی پھیلائی ہے ورنہ ان سے پہلے ہندوستانی لوگ مذہب کے معاملہ میں ایسے رذیل اخلاق رکھنے والے نہ تھے۔آدمیوں کو چاہیے کہ جب ایک مذہب کو سچا سمجھ کر قبول کرے تو پھر اس پر استقامت دکھلائے۔خدا تعالیٰ رازق ہے وہ خود تمام سامان مہیا کر دے گا۔جب انسان خدا کے واسطے کوئی کام کرتا ہے تو پھر اس کو موت کی پروا نہیں رہتی اور نہ اسے خدا تعالیٰ ضائع کرتا ہے۔اندرونی تقویٰ اور طہارت کا خیال کرنا چاہیے۔جن لوگوں کے دل اور دماغ میں صرف دنیا ہی رہ جاتی ہے وہ کس کام کے آدمی ہیں؟ جو لوگ سچے دل کے ساتھ خلوص نیت کے ساتھ خدا کی طرف جھکتے ہیں خدا ان کی دستگیری کرتا ہے۔اس قسم کے عیسائی نو مسلموں کی نسبت تو ہم نے ان لوگوں کو بہت ثابت قدم دیکھا ہے جو ہندوؤں میں سے مسلمان ہو کر ہمارے پاس آئے ہیں جیسا کہ شیخ عبد الرحیم ہیں۔سردار فضل حق ہیں۔شیخ عبدالرحمٰن صاحب، شیخ عبد العزیز صاحب ہیں۔ان لوگوں نے اسلام کی خاطر بہت دکھ