ملفوظات (جلد 9) — Page 12
مگر اس کی تمام صفات کو دیکھنا چاہیے۔وہ محیی ہے اور ممیت بھی ہے۔اثبات بھی کرتا ہے تو محو بھی کرتا ہے۔پیدا بھی کرتا ہے فنا بھی کرتا ہے اس بات کی کیا دلیل ہے کہ روح کو فنا نہیں اور کہ یہی روح ہمیشہ سے چلے آتے ہیں؟ وہ جب تک کسی کو چاہے رکھے۔ہر ایک چیز فنا ہوجانے والی ہے۔باقی رہنے والی ذات صرف خدا کی ہی ہے۔روح میں جبکہ ترقی بھی ہوتی ہے اور تنزل بھی ہوتا ہے تو پھر اس کو ہمیشہ کے واسطے قیام کس طرح ہو سکتا ہے؟ جب تک روح کا قیام ہے وہ اَمر الٰہی کے قیام کے نیچے ہے۔خدا کے اَمر کے ماتحت ہی کسی کا قیام ہو سکتا ہے اور وہی فنا بھی کرتا ہے۔وہ ہمیشہ خالق بھی ہے اور ہمیشہ خلق کو مٹاتا بھی ہے۔مسلمان قدامت کا قائل ہے مگر قدامت نوعی کا نہ کہ قدامت شخصی کا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ پہلے کیا چیزیں تھیں اور کیا نہ تھیں۔اگر اس کے برخلاف قدامت شخصی کا عقیدہ رکھا جاوے تو وہ دہریت میں داخل ہونا ہوتا ہے۔۱ ۲۶؍دسمبر ۱۹۰۶ء تقریر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (جو حضور نے بعد ظہر و عصر جامع مسجد میں کھڑے ہو کر فرمائی ) اب صاحبو! آرام سے سن لو۔اگرچہ میری طبیعت بیمار ہے اور میں اس لائق نہ تھا کہ کھڑا ہو کر ایک لمبی تقریر کرتا۔تاہم میں نے خیال کیا کہ لوگ دور دور سے آئے ہیں تاکہ ہماری باتیں سنیں۔ایسی صورت میں کچھ نہ کہنا معصیت میں داخل ہوگا۔لہٰذا باوجود حالت بیماری کے میں نے مناسب جانا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے جو ہدایت دی ہے میں اس سے سب لوگوں کو اطلاع دوں۔۲ کلمہ طیبہ کی حقیقت میں کئی بار ظاہر کر چکا ہوں کہ تمہیں صرف اتنے پر خوش نہیں ہونا چاہیے کہ ہم مسلمان کہلاتے ہیں اور لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کے قائل ہیں جو لوگ قرآن