ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 206

کہ میں کئی جگہ گیا تھا اور میں نے آپ کی جماعت کے آدمیوں کو نماز کی بروقت پابندی میں اور باہمی اخوت کے شرائط کے پورا کرنے میں قاصر پایا۔فرمایا۔اصلاح ہمیشہ رفتہ رفتہ ہوتی ہے۔بعض مستعجل لوگ ہیں جو نکتہ چینی پر جلدی کرتے ہیں اخلاص اور ثباتِ قدم خدا تعالیٰ کا ایک فضل ہے اور اس سلسلہ میں داخل ہونا بھی اللہ تعالیٰ کا ایک فضل ہے۔بہت لوگ ایسے ہیں جنہوں نے داخلہ کے فضل کی توفیق پائی اور ثباتِ قدم اور اخلاص کی توفیق کے حاصل کرنے کے واسطے ہنوز وہ منتظر ہیں۔ہر ایک شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی حالت کو دیکھے۔کیا وہ جس دن اس سلسلہ میں داخل ہوا اس دن اس کی حالت وہ تھی جو آج اس کی ہے۔ہر ایک آدمی رفتہ رفتہ ترقی کرتا ہے اور کمزوریاں آہستہ آہستہ دور ہو جاتی ہیں گھبرانا نہیں چاہیے اور اصلاح کے واسطے کوشش کرنی چاہیے۔اپنے بھائی کو حقارت سے نہ دیکھو بلکہ اس کے واسطے دعا کرو۔اس کے ساتھ لڑائی نہ کرو بلکہ اس کی اصلاح کی فکر کرو۔اپنی موت کو یاد رکھو ایک شخص نے عرض کی کہ مجھے نماز میں لذّت نہیں آتی۔فرمایا کہ موت کو یاد رکھو۔یہی سب سے عمدہ نسخہ ہے۔دنیا میں انسان جو گناہ کرتا ہے اس کی اصل جڑ یہی ہے کہ اس نے موت کو بھلا دیا ہے۔جو شخص موت کو یاد رکھتا ہے وہ دنیاکی باتوں میں بہت تسلی نہیں پاتا۔لیکن جو شخص موت کو بھلا دیتا ہے اس کا دل سخت ہوجاتا ہے اور اس کے اندر طولِ اَمَل پیدا ہوجاتا ہے۔وہ لمبی لمبی امیدوں کے منصوبے اپنے دل میں باندھتا ہے۔دیکھنا چاہیے کہ جب کشتی میں کوئی بیٹھا ہو اور کشتی غرق ہونے لگے تو اس وقت دل کی کیا حالت ہوتی ہے۔کیا ایسے وقت میں انسان گناہ گاری کے خیالات دل میں لا سکتا ہے؟ ایسا ہی زلزلہ اور طاعون کے وقت میں چونکہ موت سامنے آجاتی ہے اس واسطے گناہ نہیں کر سکتا اور نہ بدی کی طرف اپنے خیالات کو دوڑا سکتا ہے۔پس اپنی موت کو یاد رکھو۔خدا تعالیٰ کا سلام ایک دوست نے عرض کی کہ مخالفین نے ہم کو سلام کہنا چھوڑ دیا۔فرمایا۔تم نے ان کے سلام میں سے کیا حاصل کر لینا ہے۔سلام تو وہ