ملفوظات (جلد 9) — Page 200
ایسا ہی یہ مسئلہ بھی سمجھ لو۔میں تمہیں ایک اصل بتا دیتا ہوں کہ قرآن مجید میں آیا ہے۔وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ(المدثر:۶) پس جب پانی کی حالت اس قسم کی ہوجائے جس سے صحت کو ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو تو صاف کر لینا چاہیے۔مثلاً پتّے پڑ جاویں یا کیڑے وغیرہ (حالانکہ اس پر یہ ملّاں نجس ہونے کا فتویٰ نہیں دیتے) باقی یہ کوئی مقدار مقرر نہیں۔جب تک رنگ، بو و مزا نجاست سے نہ بدلے وہ پانی پاک ہے۔۱ ۱۲؍جولائی ۱۹۰۷ء (قبل از خطبہ جمعہ) احسان اور دعا باہر سے آئے ہوئے ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور میری بیوی کسی صورت میں مسلمان نہیں ہوتی۔کیا کروں میں تو اسے بہتیرا سمجھا چکا ہوں۔فرمایا۔دیکھو! زبانی وعظوں سے اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا اپنی حالت درست کر کے اپنے تئیں نمونہ بنانے سے۔تم اپنی حالت کو ٹھیک کرو اور ایسے بنو کہ لوگ بے اختیار بول اٹھیں (کہ) اب تم وہ نہیں رہے۔جب یہ حالت ہوگی تو تمہاری بیوی کیا کئی لوگ تمہارا مذہب قبول کر لیں گے۔حدیث میں آیا ہے خَیْـرُکُمْ خَیْـرُکُمْ لِاَہْلِہٖ۔پس جب بیوی سے تمہارا اچھا سلوک ہوگا تو وہ خود بخود محجوب ہو کر تمہاری مخالفت چھوڑ دے گی اور دل سے جان لے گی کہ یہ مذہب بہت ہی اچھا ہے جس میں ایسے نرم و عمدہ سلوک کی ہدایت ہوتی ہے پھر وہ خواہ مخواہ متابعت کرے گی۔احسان تو ایسی چیز ہے کہ اس سے ایک کتا بھی نادم ہوجاتا ہے چہ جائیکہ ایک انسان۔اس نے عرض کی کہ حضور وہ تو کبھی نہیں ماننے کی۔فرمایا۔دیکھو! مایوس نہیں ہونا چاہیے۔خدا تعالیٰ جب کسی دل میں تبدیلی پیدا کرنا چاہتا ہے تو کسی چھوٹی سی بات سے کر دیتا ہے۔دعا کرنی چاہیے کہ دل سے نکلی ہوئی دعا ضائع نہیں جاتی اور لطیف پیرایہ میں نصیحت بھی کرتے رہیں مگر سختی نہ کریں۔اسے سمجھائیں کہ ہمارا وہی اسلام دین ہے