ملفوظات (جلد 9) — Page 11
دونوں باتیں مل جاویں وہاں بہت ہی زہریلا اثر ہوتا ہے۔دلیل صداقت فرمایا۔جتنے لوگ مباہلہ کرنے والے ہمارے مقابلہ میں آئے۔خدا تعالیٰ نے سب کو ہلاک کر دیا۔انہوںنے اپنے ہاتھوں سے آپ موت مانگی۔مخالفوں کو چاہیے کہ اس بات پر غور کریں کہ اس کی وجہ کیا ہے کہ جو شخص مقابلہ میں آتا ہے وہی ہلاک ہوجاتا ہے؟ اگر یہ سلسلہ خدا کی طرف سے نہیںتو پھر کیا سبب ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے مقابلین کو نیست کر دیتا ہے اور اس کو دن بدن سر سبزی ہوتی جاتی ہے؟ ہمارے مخالفوں میں بہت سے لوگ اس قسم کے بھی ہیں جو کہ سچے دل سے ہمارے برخلاف دعائیں مانگتے رہے اور ہم کو اسلام کا دشمن جان کر ناکیں رگڑتے رہے۔لیکن کیا خدا تعالیٰ اسلام کا بھی دشمن تھا کہ اس نے ان لوگوں کو ہلاک کر دیا جو کہ سچے مسلمان تھے اور ان کے بالمقابل جس کو وہ اسلام کا دشمن اور دجّال یقین کرتے تھے اس کو خدا تعالیٰ نے زندہ رکھا اور اس کے سلسلہ کو روز بروز ترقی دی؟۱ ۲۵؍دسمبر ۱۹۰۶ء (صبح کی سیر) روح ازلی اور ابدی نہیں ہے ۲۵؍کی صبح جب حضرت اقدس سیر کے واسطے باہر تشریف لے گئے تو ایک مجمع کثیر آپ کے ہمراہ تھا جن میں اکثر حصہ سیالکوٹ کے ضلع کے احمدی برادران کا تھا جو کہ اپنے لائق مہتمم چوہدری مولا بخش صاحب کے ہمراہ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔ایک شخص نے چند ایک سوالات پیش کئے۔پہلا سوال یہ تھا کہ جبکہ خدا تعالیٰ ازل سے خالق ہے اور ابد تک ہے اور ارواح بھی ہمیشہ سے اس کی خلق میں شامل ہیں اور ہمیشہ چلے جائیں گے تو پھر آریوں کے اعتقاد کے مطابق روح بھی ازلی اور ابدی ہوا۔فرمایا۔یہ بات درست نہیں۔اس سوال میں مغالطہ دیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ ہمیشہ سے خالق ہے