ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 10

حضرت نے فرمایا کہ جیسا ہمارے مخالفین نے جو کہ عام مسلمان ہیں ہماری مخالفت میں حق کو چھوڑ رکھا ہے اس واسطے اس مقابلہ میں کھڑے نہیں ہو سکتے۔ایسا ہی غیر مذاہب کے لوگوں کا حال ہے۔اگر وہ کسی مجلس میں ہمارے برخلاف بات کریں تو اپنی اندرونی باتوں کا اظہار کرا کر خود بخود شرمندہ ہوجاتے ہیں۔پس ہمارے مقابلہ میں وہ بھی عاجز ہو جاتے ہیں اور یہ بھی عاجز ہوجاتے ہیں۔سیالکوٹ کے تاجروں کی ہڑتال ذکر تھا کہ سیالکوٹ کے تجار نے بہ سبب محصول چنگی میں زیادتی کے دوکانیں بند کر دی تھیں اور چند روز کا نقصان اٹھا کر پھر خود بخود کھول دیں۔فرمایا۔اس طرح کا طریق گورنمنٹ کی مخالفت میں برتنا ان کی بے وقوفی تھی۔جس سے ان کو خود ہی باز آنا پڑا محصول تو در اصل پبلک پر پڑتا ہے۔آسمانی اسباب کے سبب سے بھی جب کبھی قحط پڑ جاتا ہے تو تاجر لوگ نرخ بڑھا دیتے ہیں اس وقت کیوں دکانیں بند نہیں کر دیتے؟ امراض سینہ کا علاج ایک دوست کا ذکر تھا کہ وہ مرض سل و دق میں مبتلا ہے۔حضرت نے فرمایاکہ ہم نے ایک شخص کو دیکھا تھا کہ وہ امراضِ سینہ میں گرفتار تھا۔ڈاکٹر نے اس کو مشورہ دیا کہ سمندر کے کنارے کچھ مدت رہے۔ایسا کرنے سے وہ بالکل تندرست ہوگیا اور اب تک زندہ ہے۔صادقوںکی مخالفت سیالکوٹ کا ذکر تھا کہ اب مخالفوں کا چنداں زور نہیں رہا۔حضرت نے فرمایا۔جب کسی کی مخالفت شروع ہوتی ہے تو ایک فریق ضرور تھک کر رہ جاتا ہے۔مدعی اگر کاذب ہو تو وہ لوگوں کی مخالفت سے تنگ آکر تھک جاتا ہے اور اپنا کام چھوڑ دیتا ہے اور اگر وہ صادق ہو تو اس کے مخالف اپنی مخالفت میں بالآخر تھک کر رہ جاتے ہیں۔یہی حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا۔اور یہی حال تمام انبیاء کے زمانہ میں ہوتا رہا۔صادق ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔لیکن مخالفوںکے درمیان جہاں تعصب اور بے وقوفی