ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 195

وقت کے مرسل کو ماننا ضروری ہے فرمایا۔خدا تعالیٰ کی عدولِ حکمی سے کوئی شخص کس طرح بچ سکتا ہے۔جو لوگ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کے مرسل کو نہیں مانتے وہ خدا تعالیٰ کی عدولِ حکمی کرتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو یہود اور عیسائی تھے وہ صاحب شریعت تھے۔نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے۔تمام انبیاء کو مانتے تھے مگر آنحضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ ماننے کے سبب وہ کافر قرار دیئے گئے۔اس زمانہ کے لوگ جو نہ صرف ہمارے مخالف ہیں بلکہ ہم کو کافر قرار دیتے ہیں وہ بموجب حدیث نبویؐ مومن کو کافر کہہ کر خود کافر بنتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔معلّق مال پر زکوٰۃ واجب نہیں ایک صاحب نے دریافت کیا کہ تجارت کا مال جو ہے جس میں بہت سا حصہ خریداروں کی طرف ہوتا ہے اور اُگراہی میں پڑا ہوتا ہے اس پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟ فرمایا۔جو مال معلّق ہے اس پر زکوٰۃ نہیں جب تک کہ اپنے قبضہ میں نہ آجائے لیکن تاجر کو چاہیے کہ حیلے بہانے سے زکوٰۃ کو نہ ٹال دے۔آخر اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اخراجات بھی تو اسی مال میں سے برداشت کرتا ہے۔تقویٰ کے ساتھ اپنے مالِ موجودہ اور معلّق پر نگاہ ڈالے اور مناسب زکوٰۃ دے کر خدا تعالیٰ کو خوش کرتا رہے۔بعض لوگ خدا کے ساتھ بھی حیلے بہانے کرتے ہیں۔یہ درست نہیں ہے۔دین کو دنیا پر مقدم رکھنا چاہیے فرمایا۔دین کو دنیا پر مقدم رکھنا نہایت مشکل اَمر ہے۔کہنے کو تو انسان کہہ لیتا ہے اور اقرار بھی کر لیتا ہے مگر اس کا پورا کرنا ہر ایک کا کام نہیں۔دین کو دنیا پر مقدم رکھنا اس طرح سے پہچانا جاتا ہے کہ جب انسان کا دنیوی مال میں نقصان ہو تو کس قدر درد اس کے دل کو پہنچتا ہے اور اس کے بالمقابل جب کسی دینی اَمر میں نقصان ہو جائے تو پھر کس قدر درد اس کے دل کو ہوتا ہے۔انسان کو چاہیے کہ اس شناخت کے واسطے اپنے دل کو ہی ترازو بنائے کہ دنیاوی نقصان کے واسطے وہ کس قدر بے قرار ہوتا ہے اور چیختا چلاتا ہے