ملفوظات (جلد 9) — Page 196
اور پھر دینی نقصان کے وقت اس کا کیا حال ہوتا ہے؟ بد ہے وہ شخص جو دوسرے کو دھوکا دیتا ہے مگر بدتر وہ ہے جو اپنے آپ کو بھی دھوکا دیتا ہے۔دین کو مقدم نہیں کرتا اور خیال کرتا ہے کہ میں دین کو مقدم کئے ہوئے ہوں۔وہ سچے طور پر خدا تعالیٰ کا فرمانبردار نہیں بنا اور ظن کرتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔جو شخص دوسرے پر ظلم کرتا ہے ممکن ہے وہ ظلم کر کے بھاگ جائے اور اس طرح اپنے آپ کو بچائے مگر وہ جس نے اپنی جان پر ظلم کیا وہ کہاں بھاگ کر جائے گا اور اس ظلم کی سزا سے کس طرح بچ سکے گا؟ مبارک ہے وہ جو دین کو اور خدا کو سب چیزوں پر مقدم رکھتا ہے کیونکہ خدا بھی اسے مقدم رکھتا ہے۔حقیقۃ الوحی کو غور سے پڑھیں فرمایا۔ہمارے دوستوں کو چاہیے کہ حقیقۃ الوحی کو اوّل سے آخر تک بغور پڑھیں بلکہ اس کو یاد کر لیں۔کوئی مولوی ان کے سامنے نہیں ٹھہر سکے گا کیونکہ ہر قسم کے ضروری امور کا اس میں بیان کیا گیا ہے اور اعتراضوں کے جواب دیئے گئے ہیں۔خواجہ غلام فریدؒ صاحب کا ذکر خیر فرمایا۔خواجہ غلام فریدؒ صاحب کی سوانح کی ایک کتاب لکھی گئی ہے۔اس میں خواجہ صاحب نے جابجا ہماری تائید کی ہے۔ایک جگہ لکھا ہے کہ بعض مولویوں نے خواجہ صاحب مرحوم سے دریافت کیا تھا کہ آپ کیوں ان کی تائید کرتے ہیں مولوی لوگ تو ان کو کافر قرار دیتے ہیں۔تو انہوں نے کیا خوب جواب دیا کہ مولوی لوگوں نے پہلے کس کو مانا ہے اور کس کو کافر قرار نہیں دیا؟ ان کا تو کام ہی یہ ہے ان کی طرف خیال مت کرو۔فیصلہ کی آسان راہ ایک صاحب نے حضرت کی خدمت میں ذکر کیا کہ حضور کی اس تحریر پر جو اخبار میں چھپی ہے کہ ’’اگر ہمارے مکذب ہمارے شائع کردہ الہامِ الٰہی اِنِّیْٓ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ کو افترا سمجھتے ہیں اور یقین کرتے ہیں کہ محض اپنے دل سے یہ بات بنائی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا کلام نہیں جو ہم پر نازل ہوا ہے اور صرف اتفاقی طور پر ہمارے گھر کی حفاظت ہو رہی ہے تو چاہیے کہ ہمارے مکذبوں میں سے بھی کوئی ایسا الہام شائع