ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 193

کی خدمت خوب کی اور اچھی طرح سے اس کی دعوت کی اور ایک دن جبکہ وہ غصہ میں بھرا ہوا وہابیوں کو خوب گالیاں دے رہا تھا کسی شخص نے اس کو کہا کہ جس کے گھر میں تم مہمان ٹھہرے ہو وہ بھی تو وہابی ہے۔اس پر وہ خاموش ہوگیا اور اس شخص کا مجھ کو وہابی کہنا غلط نہ تھا۔کیونکہ قرآن شریف کے بعد صحیح احادیث پر عمل کرنا ہی ضروری سمجھتا ہوں۔خیر وہ شخص چند دن کے بعد چلا گیا۔اس کے بعد ایک دفعہ لاہور میں مجھ کو پھر ملا۔اگرچہ وہ وہابیوں کی صورت دیکھنے کا بھی روادار نہ تھا مگر چونکہ اس کی تواضع اچھی طرح سے کی تھی اس لیے اس کا وہ تمام جوش و خروش دب گیا اور وہ بڑی مہربانی اور پیار سے مجھ کو ملا۔چنانچہ بڑے اصرار کے ساتھ مجھ کو ساتھ لے گیا اور ایک چھوٹی سی مسجد میں جس کا کہ وہ امام مقرر ہوا تھا مجھ کو بٹھلایا اور خود نوکروں کی طرح پنکھا کرنے لگا اور بہت خوشامد کرنے لگا کہ کچھ چائے وغیرہ پی کر جاویں۔پس دیکھو کہ احسان کس قدر دلوں کو مسخر کر لیتا ہے۔۱ اخلاص کی ایک علامت ایک صاحب کی لڑکی بیمار تھی۔انہوں نے اس کی دعا کے لیے تار بھیجا تھا۔آپ نے اس کو پڑھ کر فرمایا کہ دیکھو یہ لوگ ہم سے کتنا اخلاص رکھتے ہیں۔جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو جھٹ ہماری طرف آتے اور دعا کے خواستگار ہوتے ہیں۔میں دعا کروں گا۔آگے شفا خدا کے اختیار میں ہے۔چند دن ہوئے مجھ کو الہام ہوا تھا کہ ’’لاہور سے ایک افسوسناک خبر آئی۔‘‘ چنانچہ یہ چھپ بھی چکا ہے اور اس الہام کی وجہ سے ہم نے ایک آدمی لاہور بھیج کر پچھوایا بھی تھا کہ وہاں کے دوستوں کا کیا حال ہے؟ مگر کیا معلوم تھا کہ یہ چند دن کے بعد پورا ہوگا۔۲ لنگر خانہ کی اہمیت فرمایا۔آجکل لوگ لنگر کی طرف بہت کم توجہ کرتے ہیں اور دوسری مدات کی طرف بہت متوجہ ہیں۔حالانکہ سب سے ضروری مد یہی ہے کیونکہ ۱ قیاس ہے کہ غالباً یہ دونوں واقعات حضور علیہ السلام کے دعویٰ ماموریت سے پہلے کے ہیں۔واللہ اعلم بالصواب (خاکسار مرتّب) ۲نوٹ از ایڈیٹر صاحب بدر۔چنانچہ چند روز کے بعد خبر آئی کہ مریض فوت ہوگیا ہے چونکہ وہ ایک معصوم بچہ تھا خدا تعالیٰ نے اس کو بخش ہی دیا ہوگا۔خدا اس کے والدین کو اس کا نعم البدل عطا فرمائے۔آمین(ایڈیٹر) ۳ بدر جلد ۶ نمبر ۲۷ مورخہ ۴؍جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ ۷