ملفوظات (جلد 9) — Page 192
مشاعرہ میں شامل نہیں ہوئے۔میں ہرگز پسند نہیں کرتا کہ کوئی شاعری میں اپنا نام پیدا کرنا چاہے۔ہاں اگر حال کے طور پر نہ صرف قال کے طور پر اور جوشِ روحانی سے اور نہ خواہش نفسانی سے کبھی کوئی نظم جو مخلوق کے لیے مفید ہو سکتی ہو لکھی جائے تو کچھ مضائقہ نہیں۔مگر یہی پیشہ کر لینا ایک منحوس کام ہے۔۱ بلاتاریخ اس بات کو دیکھ کر کہ اکثر خطوط طالبان دعا کے ہی ہوتے ہیں میں ۱نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ ہر روز ڈاک میں سے طالبان دعاکی ایک فہرست طیار کرتا جس میں نام و پتہ اور مطلب دعا لکھا جاتا اور وہ روزانہ حضرت کی خدمت میں بھیج دیتا چند روز کے بعد میں نے حضور سے دریافت کیا کہ جو لوگ صرف دعا کے واسطے خط لکھتے ہیں ان کو کیا جواب دیا جائے۔فرمایا۔ایسے لوگوں کے واسطے پہلے تو میں صرف ایک دفعہ دعا کیا کرتا تھا جبکہ مجھے خط ملتا تھا۔اب جب سے آپ فہرست بنا کر بھیجتے ہیں میں ان کے لئے دو دفعہ دعا کرتا ہوں۔۲ بلاتاریخ احسان دل کو مسخر کر لیتا ہے فرمایاکہ احسان ایک نہایت عمدہ چیز ہے۔اس سے انسان اپنے بڑے بڑے مخالفوں کو زیر کر لیتا ہے چنانچہ سیالکوٹ میں ایک شخص تھا جو کہ تمام لوگوں سے لڑائی رکھتا تھا اور کوئی ایسا آدمی نہ ملتا تھا جس سے اس کی صلح ہو۔یہاں تک کہ اس کے بھائی اور عزیز اقارب بھی اس سے تنگ آچکے تھے۔اس سے میں نے بعض دفعہ معمولی سا سلوک کیا اور وہ اس کے بدلہ میں کبھی ہم سے برائی سے پیش نہ آتا بلکہ جب ملتا تو بڑے ادب سے گفتگو کرتا۔اسی طرح ایک عرب ہمارے ہاں آیا اور وہ وہابیوں کا سخت مخالف تھا یہاں تک کہ جب اس کے سامنے وہابیوں کا ذکر بھی کیا جاتا تو گالیوں پر اتر آتا۔اس نے یہاں آکر بھی سخت گالیاں دینی شروع کیں اور وہابیوں کو بُرا بھلا کہنے لگا۔ہم نے اس کی کچھ پروا نہ کر کے اس