ملفوظات (جلد 9) — Page 191
آریوں کی فطرت فرمایا۔ہمارا ایک پرانا واقف ہندو ہے اس کا خط آیا تھا کہ آریہ لوگ دراصل گورنمنٹ کے خیر خواہ ہیں۔سرکار کو غلط فہمی ہوئی۔میں نے اسے خط لکھا ہے یہ تمہاری غلطی ہے کہ آریہ سرکار کے خیر خواہ ہیں۔اس سلوک کو دیکھا جائے جو گورنمنٹ نے ان کے ساتھ کیا ہے کہ ان کو اعلیٰ تعلیم دی ہے اور تمام معزز عہدوں پر ان کو ممتاز کیا ہے اور دفاتر ان سے بھر دیئے ہیں اور پھر اس سلوک کو دیکھا جائے جو کہ اب انہوںنے گورنمنٹ کے ساتھ کیا ہے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ گورنمنٹ کے صرف بدخواہ ہی نہیں بلکہ نمک حرام بھی ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ آریوں کی فطرت میں یہ بدی ہے کہ اپنے محسن کے ساتھ ایسی بد سلوکی کریں۔فرمایا۔میں نے اس کو صلاح دی ہے کہ تم اپنا تعلق آریوں سے بالکل علیحدہ کر لو۔ناجائز وعدہ کو توڑنا ضروری ہے ایک شخص کی درخواست پیش ہوئی کہ میری ہمشیرہ کی منگنی مدت سے ایک غیر احمدی کے ساتھ ہوچکی ہے اب اس کو قائم رکھنا چاہیے یا نہیں؟ فرمایا۔ناجائز وعدہ کو توڑنا اور اصلاح کرنا ضروری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قَسم کھائی تھی کہ شہد نہ کھائیں گے۔خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ ایسی قَسم کو توڑ دیا جاوے۔علاوہ ازیں منگنی تو ہوتی ہی اسی لیے ہے کہ اس عرصہ میں تمام حسن و قبح معلوم ہوجاویں۔منگنی نکاح نہیں ہے کہ اس کو توڑنا گناہ ہو۔مجالس مشاعرہ ایک جگہ بعض شاعرانہ مذاق کے دوست ایک باقاعدہ انجمن مشاعرہ قائم کرنا چاہتے تھے اس کے متعلق حضرت سے دریافت کیا گیا۔فرمایا۔یہ تضیعِ اوقات ہے کہ ایسی انجمنیں قائم کی جاویں اور لوگ شعر بنانے میںمستغرق رہیں۔ہاں یہ جائز ہے کہ کوئی شخص ذوق کے وقت کوئی نظم لکھے اور اتفاقی طور پر کسی مجلس میں سنائے یا کسی اخبار میں چھپوائے۔ہم نے اپنی کتابوں میں کئی نظمیں لکھی ہیں مگر اتنی عمر ہوئی آج تک کبھی کسی