ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 188

زمانہ کوئی تھوڑا زمانہ نہیں بلکہ اس میں تو ایک بچہ بھی پیدا ہوکر بالغ ہو سکتا ہے۔اب وہ زمانہ آتا ہے کہ آخری فیصلہ کر دیا جاوے اور وہ فرقان حاصل ہو جو انبیاء اور ان کے مخالفین میں ہوا کرتا ہے۔پہلے خدا تعالیٰ کو یہ پسند ہے کہ دو فریق آپس میں کشتی کریں پھر آخر وہ وقت آتا ہے کہ ایک فریق کی حمایت کر کے ان کو کامیاب کرے اور دوسرے کو فنا یا مغلوب کرے۔۱ ۲۸؍مئی ۱۹۰۷ء (ظہر) فرمایاکہ ان ہندوؤں نے جو دکھ ہمیں دیئے ہیں وہ بیان سے باہر ہیں۔دیانند نے کیا کچھ نہیں لکھا۔کنھیا لال اس سے کم نہیں۔پھر لیکھرام نے جو خبث پھیلایا ہے اس کا نتیجہ کسی سے مخفی نہیں۔پس جب ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ایک حیوان کے بدلے میں انسان کا قتل بھی جائز قرار دیں اور اپنی حکومت کے زمانہ میں اونچی اذان تک بھی نہ کہنے دیں تو پھر ہم کیوں نہ کہیں کہ انگریزی حکومت ہمارے لئے خدا کی ایک خاص رحمت ہے۔؎ بہ قومے کہ نیکی پسندد خدا دہد خسرو عادل و نیک رائے ان ہندوؤں سے ہمارا کچھ کبھی اتحاد نہیں ہو سکتا کہ آزمودہ را آزمودن جہل است۔انگریز بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جب مسلمان بادشاہوں سے وزارت تک کے عہدے پاکر بھی یہ ان کی شکایت کرنا ہی اپنا مذہبی جزو سمجھتے ہیں تو پھر ان سے کیا وفا شعاری کریں گے۔ہمیں تو ان کے بڑھے ہوئے تعصب پر افسوس آتا ہے کہ ہم تو ان کے ہادیوں کرشن رامچندر کی عام مجلسوں میں بھی تصدیق کریں اور ان کو خدا کے پاک بندے قرار دیں اور یہ ایسے شوخ چشم کہ بلاوجہ حماقت سے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کل اصفیا کے سردار کو بُرا کہیں ایسی باتوں سے میں نے کہا کہ جنگل کے بھیڑیوں، سانپوں، بچھوؤں سے صلح آسان مگر ان سے ناممکن۔۲