ملفوظات (جلد 9) — Page 189
بلاتاریخ ایک دعا اور اس کا جواز میاں محمد دین احمدی کباب فروش لاہور (حال ساکن موضع دھورہ ڈھیری بٹاں ریاست جموں) نے ایک عریضہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا جس میں لکھا تھا ’’یا حضرت میں نے چند روز سے محض رضائے الٰہی کے لیے جناب باری تعالیٰ میں یہ دعا شروع کی ہے کہ میری عمر میں سے دس سال حضرت اقدس مسیح موعود کو دی جاوے کیونکہ اسلام کی اشاعت کے واسطے میری زندگی ایسی مفید نہیں۔کیا ایسی دعا مانگنا جائز ہے؟‘‘ حضرت اقدس نے جواب میں تحریر فرمایا۔’’ایسی دعا میں مضائقہ نہیں بلکہ ثواب کا موجب ہے۔‘‘ ہندوؤں سے ہمدردی ایک شخص کا سوال حضرت کی خدمت میں پیش ہوا کہ بہ سبب پرانے تعلقات کے ایک ہندو ہمارے شہر کا ہمارے معاملات شادی اور غمی میں شامل ہوتا ہے اور کوئی مَر جائے تو جنازہ میں بھی ساتھ جاتا ہے۔کیا ہمارے واسطے بھی جائز ہے کہ ہم اس کے ساتھ ایسی شمولیت دکھائیں؟ فرمایا کہ ہندوؤں کی رسوم اور امور مخالف شریعت اسلام سے علیحدگی اور بیزاری رکھنے کے بعد دنیوی امور میں ہمدردی رکھنا اور ان کی امداد کرنا جائز ہے۔نماز جمعہ کے بعد احتیاطی ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ بعض لوگ جمعہ کے بعد احتیاطی پڑھتے ہیں۔اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ فرمایا کہ قرآن شریف کے حکم سے جمعہ کی نماز سب مسلمانوں پر فرض ہے۔جبکہ جمعہ کی نماز پڑھ لی تو حکم ہے کہ جاؤ اب اپنے کاروبار کرو۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ انگریزوں کی سلطنت