ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 9

اس میں بھی خالص محبت وہ سمجھی جاتی ہے جس کے درمیان کوئی غرض نہ ہو۔اصلی محبت کا نمونہ دنیا کے اندر ماں کی محبت میں قائم ہے کہ وہ اپنے بچے کو کسی غرض کے واسطے محبت نہیں کرتی بلکہ وہ محبت طبعی ہوتی ہے۔اگر کوئی بادشاہ بھی کسی عورت کو کہے کہ تو اپنے بچے کے واسطے اتنی تکلیف نہ اٹھا۔اس کو اپنے حال پر چھوڑ دے۔مَرے یا زندہ رہے کوئی باز پُرس تجھ سے نہیں ہوگی تو وہ عورت بادشاہ پر بجائے خوش ہونے کے سخت ناراض ہوگی کہ یہ میرے بچے کے حق میں موت کا کلمہ منہ سے نکالتا ہے اور محبت کا جوش دو طرفہ ہوتا ہے۔بچہ نابالغ ہوتا ہے۔اس کو کوئی سمجھ نہیں کہ دوست کیا ہے اور دشمن کیا۔مگر ہر حالت میں ماں کی طرف دوڑتا ہے اور اسی سے انس پکڑتا ہے۔دل را بدل رہیست والا معاملہ ہے۔جب بچہ نادان ہو کر ماں کی محبت کے عوض میں محبت کرتا ہے تو خدا ایک بچے سے بھی گیا گذرا ہے کہ وہ تمہاری محبت کا عوض تم کو نہ دے گا؟ وہ ضرور محبت کرنے والوں کے ساتھ محبت کرتا ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب انسان نرم رفتار سے خدا کی طرف چلتا ہے تو خدا دوڑ کر اس کی طرف آتا ہے۔جب انسان کا دل خالص ہوجاتا ہے تو پھر دنیا کچھ چیز نہیں وہ تو خود بخود خدمت کرنے کے واسطے تیار ہوجاتی ہے لیکن وظائف کے ساتھ خواہش کرنا کہ دنیا مل جاوے یہ ایک بُت پرستی ہے اور اس سے سالک کو سخت پرہیز درکار ہے۔جب خدا مل جاوے تو پھر دنیا کچھ شَے نہیں۔جو لوگ دنیا کے پیچھے پڑتے ہیں دنیا ان سے بھاگتی ہے اور جو دنیا کو چھوڑتے ہیں دنیا خود بخود ان کے پیچھے آتی ہے۔۱ ۲۴؍دسمبر ۱۹۰۶ء حق کا غلبہ قبل از نماز ظہر بہت سے دوست تشریف لاچکے تھے جو کہ مسجد مبارک میں حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اس وقت اس اَمر کا ذکر تھا کہ غیر مذاہب کے لوگ احمدی جماعت کے آگے نہیں ٹھہرتے۔