ملفوظات (جلد 9) — Page 177
گے۔ایسے لوگوں کی ہرگز پروا نہ کرو اور اپنے خدا پر بھروسہ کرو۔طاعون اور ہماری جماعت فرمایا۔یہ نادان لوگوں کا غلط خیال ہے کہ طاعون ہماری جماعت کو نقصان پہنچاتی ہے۔اگر طاعون سے کوئی آدمی ہماری جماعت کا شہید ہوتا ہے تو یہاں تو خدا تعالیٰ ایک کی بجائے سو بھیج دیتا ہے لیکن ہمارے مخالفوں کا یہ حال ہے کہ ایک تو طاعون سے ہزاروں مَر رہے ہیں۔وہ بھی ان میں سے کم ہو گئے اور جو زندہ ہیں ان میں سے ہزاروں نکل کر ہماری جماعت میں داخل ہو رہے ہیں۔ہماری جماعت تو دن بدن بڑھ رہی ہے اور مخالفوں کی جماعت دن بدن گھٹ رہی ہے۔پس ظاہر ہے کہ گھاٹے میں کون ہیں اور فائدے میں کون ہیں۔آریہ سماج کا انجام فرمایا۔افسوس ہے کہ آریہ سماج نے ایسی بُری راہ اختیار کی ہے جس کا انجام کسی صورت میں نیک نہیں ہو سکتا اور اب ان کے لیڈر کو ہی جلا وطن نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ در اصل آریہ سماج ہی جلا وطن ہو گیا ہے اور اب اس کا خاتمہ ہے۔اہلسنّت و الجماعت کون ہے حضرت مولوی نور الدین صاحب نے ایک عمدہ نکتہ بیان کیا۔فرمایا۔میں نے ایک سنی مولوی سے پوچھا کہ تم اہلسنّت و الجماعت بنتے ہو۔تمہارا امام کون ہے؟ اس نے کہا کہ کئی ایک لوگ امام ہیں۔میں نے کہا کہ امام تو ایک ہی ہوتا ہے اور وہ تمہارے درمیان کوئی نہیں اس واسطے تمہیں اہل سنّت و الجماعت کہلانے کا کوئی حق نہیں۔امام والی جماعت ایک ہی ہے اس وقت دنیا بھر میں ایک ہی مذہبی جماعت (احمدیہ) ہے جو اپنا ایک امام رکھتی ہے ورنہ تمام دوسری جماعتیں نخصمیہیں۔ان کا کوئی پیشوا نہیں۔آپس میںقُلُوْبُهُمْ شَتّٰى (الـحشـر:۱۵) کا مصداق بن رہے ہیں۔۱ تواضع اور عاجزی فرمایا۔تواضع اور مسکنت عمدہ شَے ہے جو شخص باوجود محتاج ہونے کے تکبر کرتا ہے وہ کبھی مراد کو نہیںپاسکتا۔اس کو چاہیے کہ عاجزی اختیار