ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 170

مقام لولاک کی حقیقت لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ میں کیا مشکل ہے؟ قرآن مجید میں ہےخَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا(البقرۃ:۳۰) زمین میں جو کچھ ہے وہ عام آدمیوں کی خاطر ہے تو کیا خاص انسانوں میں سے ایسے نہیں ہو سکتے کہ ان کے لیے افلاک بھی ہوں؟ در اصل آدم کو جو خلیفہ بنایا گیا تو اس میں یہ حکمت بھی تھی کہ وہ اس مخلوقات سے اپنے منشا کا خدا کی رضامندی کے موافق کام لے اور جن پر اس کا تصرف نہیں وہ خدا کے حکم سے انسان کے کام میں لگے ہوئے ہیں سورج، چاند، ستارے وغیرہ۔ہندوؤں کی حکومت کیا انصاف کرے گی؟ آریہ اور بنگالیوں کی شورش کا ذکر تھا۔فرمایا۔ان کے خیالات و حرکات سے ہمیں قطعی نفرت ہے۔ہماری جماعت کو بالکل ان سے الگ رہنا چاہے۔تعجب کی بات ہے کہ جو قوم حیوان کو انسان پر ترجیح دیتی ہو اور ایک گائے کے ذبح سے انسان کا خون کر دینا کچھ بات نہ سمجھتی ہو۔وہ حاکم ہو کر کیا انصاف کرے گی۔؎ مردانِ خدا۔خدا نہ باشند لیکن از خدا۔جدا نہ باشند خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے وہ کام دکھلاتا ہے کہ دنیا حیران رہ جاتی ہے۔۱ بلا تاریخ فاتحہ خوانی سوال پیش ہوا کہ کسی کے مَرنے کے بعد چند روز لوگ ایک جگہ جمع رہتے اور فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔فاتحہ خوانی ایک دعائے مغفرت ہے پس اس میں کیا مضائقہ ہے؟ فرمایاکہ ہم تو دیکھتے ہیں وہاں سوائے غیبت اور بے ہودہ بکواس کے اور کچھ نہیں ہوتا۔پھر یہ سوال ہے کہ آیا نبی کریمؐ یا صحابہ کرامؓ و ائمہ عظام میںسے کسی نے یوں کیا؟ جب نہیں کیا تو کیا ضرورت ہے خواہ مخواہ بدعات کا دروازہ کھولنے کی؟ ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ اس رسم کی کچھ ضرورت نہیں۔