ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 169

بے انصافی ہے! ہم انہیں بارہا سمجھا چکے کہ وعید میں تاخیر بھی ہوجاتی ہے۔دیکھو یونس نبی کی پیشگوئی ٹل گئی اور اس کی قوم پر عذاب نہ آیا۔یاد رکھو کہ یہ تمام اقوام کا مذہب ہے کہ صدقہ سے ردِّ بَلا ہوجاتا ہے اور خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ۠(الانفال:۳۴) استغفار عذاب سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ہمارے تجربوں کی طرف کوئی جائے تو ایک منذر اَمر صبح کو ہو تو شام کو منسوخ ہوجاتا ہے۔اجتہادی غلطی دوسرا اعتراض ہمارے بعض الہامات کی نسبت اپنی رائے پر ہے کہ وہ غلطی نکلی۔بشرط تسلیم ہم کہتے ہیں کہ اَمر تنقیح طلب تو یہ ہے کہ نبی اپنے اجتہاد میں غلطی کھا سکتا ہے یا نہیں؟ سو ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عیسٰیؑ نے پہلے پہلے اپنی بادشاہت دنیاوی سمجھ کر مریدوں کو ہتھیار خریدنے کا حکم دیا مگر آخر معلوم ہوگیا کہ یہ میری غلطی تھی اور وہ اس ارادہ سے باز آئے۔پھر ہمارے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا صلح حدیبیہ والا معاملہ کہ آپ کس ارادے سے آئے اور پھر کیا ہوا؟ چونکہ آپؐکی ذات بابرکات تمام انبیاء کے کمالات کی جامع تھی اس لیے صرف ایک ہی واقعہ سے ثابت ہوگیا کہ نبی اپنے اجتہاد میں غلطی کر سکتا ہے۔پس اس صورت میں ہم پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔۱ ۲۲؍اپریل ۱۹۰۷ء مسیح کا جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر جانے کا عقیدہ فرمایا۔تعجب کی بات ہے کہ مسلمان نصاریٰ سے بھی گئے گذرے ہیں۔عیسائیوں میں سے کسی کا بھی یہ عقیدہ نہیںکہ مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر گئے۔وہ سب قائل ہیں کہ جلالی جسم تھا۔مگر یہ مسلمان ہو کر کہتے ہیں کہ نہیں اسی خاکی جسم کے ساتھ گئے اور اسی کے ساتھ اتریں گے۔حالانکہ عیسائی ان کے نزول کو بھی ایسا نہیں مانتے۔