ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 165

۱۶؍اپریل ۱۹۰۷ء مامور من اللہ کی بات قول فیصل ہوتی ہے فرمایا۔خواجہ غلام فرید چاچڑاں والے سے کسی نے سوال کیا کہ ہم میں وہ سب پیشگوئیاں ظاہری طور پر پوری نہیں ہوتیں تو انہوں نے کیا اچھا جواب دیا کہ کیا حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہودیوں کے خیال کے مطابق سب باتیں پوری ہوگئی تھیں؟ وہ تو کہتے تھے کہ بنی اسحاق میں سے ہوگا تو کیا پھر وہ نبی انہیں میں سے آیا؟ ایسا ہی مسیح کی نسبت جو کچھ لوگ خیال کئے بیٹھے تھے کہ پہلے ان سے ایلیا آئے گا تو کیا الیاس آسمان سے اتر آیا تھا؟ ہرگز نہیں۔پس اسی طرح ضرور نہیں کہ مسیح موعود کے بارے میں سب نشان ان لوگوں کی خواہشات کے مطابق ہی ظہور میں آتے۔ایسی غلطیاں ہر ایک قوم میں پڑ جاتی ہیں۔آخر مامور من اللہ آکر ان غلط عقائد و خیالات کی اصلاح کر دیتا ہے۔اصل میں جب کسی شخص کے منجانب اللہ ہونے کو اللہ تعالیٰ اپنے متواتر نشانوں سے ثابت کر دے تو پھر اس کی ہر بات اختلافی مسئلہ میں قولِ فیصل ہوتی ہے اور سب پیشگوئیوں کے معنے وہی کئے جانے چاہئیں جو وہ کہے۔الہامات میں مابہ الامتیاز الہام کا معاملہ بڑا نازک ہے۔ایک حدیث النفس ہے۔انسان کے جو اپنے خیالات ہوں وہی سنائی دیتے ہیں۔دوم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کلام کا نزول ہے۔جب یہ بات ہے تو پھر مابہ الامتیاز کا ضرور خیال رکھنا چاہیے۔اگر کسی کی ایک آدھ بات شاذ و نادر پوری ہو جاوے تو اسے بھی نبی نہیں کہہ سکتے۔کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ فاسق سے فاسق شخص کا خواب بھی بعض اوقات سچا ہو جاتا ہے۔فاسق تو درکنار ایک کافر کا خواب بھی بعض اوقات ٹھیک نکل آتا ہے۔یہ اصل میں اتمامِ حجّت کے لیے ہے۔گویا خدا تعالیٰ سمجھاتا ہے کہ یہ مادہ انسان کی فطرت میں داخل ضرور ہے کیونکہ جس کا کوئی نمونہ ہی نہ ہو اسے تو لوگ مانتے ہی نہیں مگر یہ بات نہیں کہ جسے کوئی خواب آوے وہی ولی بن جاوے بلکہ جب پوری شوکت کے ساتھ کلام الٰہی نازل ہو اور ساتھ بارش کی طرح نشانوں کا نزول ہو تو پھر یقین کرنا چاہیے کہ یہ