ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 164

واسطے کسولی سے تار آیا تھا کہ اب اس کی دیوانگی کے (آثار) نمودار ہوجانے پر کوئی علاج نہیں ہوسکتا۔لیکن خدا تعالیٰ نے اس کے حق میں ہماری دعا کو قبول کیا اور وہ بالکل تندرست ہوگیا۔کبھی کوئی اس طرح سے بچتا دیکھا یا سنا نہیں گیا۔ایک الہام کے معنی فرمایا۔یہ جو الہام تھا کہ ’’یا اللہ! اب شہر کی بَلائیں بھی ٹال دے‘‘ گو اس کے معنے اور بھی ہوں مگر ایک معنے اس کے یہ بھی ہیںکہ یہ سخت بد زبان آریہ سوم راج اور اچھر جو ہر ہفتہ گندی گالیوں کے بھرے ہوئے اخبار چھاپتے تھے یہ بھی اس شہر کی بَلائیں تھیں۔خدا تعالیٰ نے ان کو ٹال دیا اور جہنم واصل کر دیا۔اس سال طاعون کا بہت ہی سخت زور ہے۔دوسرے شہروں میں بہت تیز ہے اس کے بالمقابل یہاں گویا کچھ نہیں بعض گاؤں بالکل تباہ ہوگئے ہیں۔بعض میں صرف ایک یا دو آدمی باقی رہ گئے ہیں اور بس۔بہت سے گاؤں حصید بن گئے ہیں اور ابھی معلوم نہیں کہ انجام کیا ہوگا۔بڑے احمق ہیں وہ لوگ جو بے باکی نہیں چھوڑتے اور خدا کے ارادے سے غافل اور بے خبر بیٹھے ہیں۔طاعون کے جراثیم بھی دابۃ الارض ہیں دابۃ الارض بھی یہی طاعونی کیڑا ہے۔تکلیم کاٹنے کو کہتے ہیں۔وہ لوگوں کو ہلاک کر رہا ہے۔آئے دن بادل بھی بن جاتا ہے اور موسم بہار قائم رہتا ہے جس میں طاعون کا زور ہوتا ہے۔اس سال موت بہت کثرت سے ہو رہی ہے۔ہم تو چاہتے ہیں کہ کسی طرح خدا پہچانا اور مانا جاوے خواہ کتنے ہی ہلاک ہوں۔اس کی کیا پروا ہے۔اگر خدا کے منکر اور گستاخ زندہ رہے تو اس میں کوئی فائدہ کی بات نہیں۔یاد رہے کہ خدا تعالیٰ بس نہ کرے گا جب تک کہ اس کی قہری تجلی اس کی ہستی کو منوا نہ لے گی۔۱