ملفوظات (جلد 9) — Page 163
تلوار خدا خود چلا رہا ہے جو لوگ جہاد پر اعتراض کرتے ہیں وہ دیکھ لیںکہ بد قسمت کفّار اس وقت بھی اپنی شامت اعمال کے سبب اسی طرح سے ہلاک ہوئے تھے جیسے کہ اب ہلاک ہو رہے ہیں۔دین اسلام کی خاطر اگر اس وقت تلوار چلی تھی تو اس وقت بھی دین اسلام ہی کی خاطر تلوار چل رہی ہے۔سب سے بڑی کرامت استجابتِ دعا ہے فرمایا۔یہ زمانہ کے عجائبات ہیں۔رات کو ہم سوتے ہیں تو کوئی خیال نہیں ہوتا کہ اچانک ایک الہام ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔کوئی ہفتہ عشرہ نشان سے خالی نہیں جاتا۔ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔یک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا کہ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابتِ دعا ہی ہے۔باقی سب اس کی شاخیں ہیں۔خدا تعالیٰ کی دی ہوئی تسلّی احمد صاحب جو کہ مدراس سے بیعت کے واسطے آئے ہیں۔ان کے متعلق عرب صاحب ابو سعید نے ذکر کیا کہ وہ کہتے ہیں کہ قادیان میں آنے سے پہلے میں نے رؤیا میں یہ سارا نقشہ ہو بہو دیکھا تھا۔یہ تمام مکانات وغیرہ مجھے بعینہٖ دکھائے گئے تھے۔حضرت نے فرمایا۔خدا تعالیٰ تسلّی دینے کے واسطے یہ باتیں دکھلا دیتا ہے اور اس کی تسلّی بے نظیر ہوتی ہے۔دیکھو! شرقاً غرباً تمام زمین پر کسی کو یہ تسلّی دی گئی کہ اِنِّیْٓ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔یہ تسلّی فقط ہم کو اس گھر کے متعلق عطا فرمائی گئی ہے یہ خدا کے عجیب کام ہیں۔دعا کا معجزہ اس جگہ ایک لڑکے کو طاعون شدید ہوگئی تھی۔حضرت نے اس کے واسطے دعا کی۔اللہ تعالیٰ نے اس کو صحت دی۔اس کا ذکر تھا۔مولوی محمد علی صاحب نے عرض کیا کہ میں ہمیشہ غور کرتا رہا ہوں کہ جس شخص کو طاعون کے سبب خون شروع ہوجاوے وہ کبھی نہیں بچتا۔صرف یہی ایک لڑکا دیکھا ہے جو باوجود خون آنے کے پھر بچ گیا۔فرمایا۔یہ صرف دعا کا نتیجہ ہے اور اس کا بچنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عبد الکریم کا بچنا تھا جس کے