ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 160

اللہ تعالیٰ نے ہزاروں نشان دکھائے مگر یہ لوگ ایسے ہیں کہ مانتے نہیں۔اگر نجاست قلبی نہ ہو تو بعض اوقات ایک نکتہ ہی کفایت کرتا ہے۔دیکھو! جب لدھیانہ میں بیعت ہوئی تو صرف قریباً چالیس آدمی تھے۔پھر اب چار لاکھ ہیں۔کیا ایسی کامیابی کسی مفتری کو بھی ہوئی ہے۔حالانکہ اس کی پیشگوئی بھی کرچکا ہو؟ اچھا میں نے اگر کوئی نشان نہ دکھلایا تو ان کے موسیٰ نے کیا دکھایا؟ کیا یہی کہ طاعون سے مَر گیا۔اگر خدا کے اولیاء کا یہی انجام ہوتا ہے تو پھر اسلام کا خدا ہی حافظ۔(بوقت ظہر) سچے الہام کے ساتھ فعلی شہادت ہوتی ہے محض قول پر فریفتہ ہونے والوں کا وہی انجام ہوتا ہے جو الٰہی بخش کا ہوا۔یادرکھو! محض الہام جب تک اس کے ساتھ فعلی شہادت نہ ہو ہرگز کسی کام کا نہیں۔دیکھو! جب کفّار کی طرف سے اعتراض ہوا لَسْتَ مُرْسَلًا تو جواب دیا گیا كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ(الرّعد:۴۴) یعنی عنقریب خدا کی فعلی شہادت میری صداقت کو ثابت کر دے گی پس الہام کے ساتھ فعلی شہادت بھی چاہیے۔دیکھو! گورنمنٹ جب کسی کو ملازمت عطا کرتی ہے تو اس کی وجاہت کے سامان بھی مہیا کر دیتی ہے۔چنانچہ جو لوگ اس کا مقابلہ کرتے ہیں وہ توہین عدالت کے جرم میں گرفتار ہوتے ہیں۔اسی طرح جو مامورانِ الٰہی کے مقابلہ پر آتے ہیں وہ ہلاک ہوجاتے ہیں آجکل پچاس آدمی کے قریب ایسے ہیں جو اس مرض میں گرفتار ہیں یعنی اپنے قولی الہام پر بھروسہ رکھتے ہیں وہ سب غلطی پر ہیں شیطان انسان کا بڑا دشمن ہے مگر خود مفتری بھی ایک شیطان ہے پس وہ اپنا آپ دشمن ہے اسی لیے جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔کیسے ناعاقبت اندیش ہیں وہ لوگ جو ایسوں کے دامِ تزویر میں پھنس جاتے ہیں۔جس کے دعویٰ کے ساتھ عظمت و جلال ربّانی کی چمک نہ ہو تو ایسے شخص کو تسلیم کرنا اپنے تئیں آگ میں ڈالنا ہے۔عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ کی حقیقت دو مخالفوں کا ذکر تھا کہ وہ اس مسئلہ کے بارے میں ایک دوسرے کے مخالف باہم کفر کے فتوے دے رہے