ملفوظات (جلد 9) — Page 159
جو لَمْ يَلْبِسُوْۤا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ کے مصداق ہیں یعنی اپنے ایمان کے نور میں کسی قسم کی تاریکی شامل نہیں کرتے اور یہ مقام سوائے کاملین کے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔۶ ہجری میں جب طاعون پڑا ہے تو کوئی مسلمان نہیں مَرا لیکن جب حضرت عمرؓ کے عہد میں طاعون پڑا تو کئی صحابی بھی شہید ہوئے وجہ یہ کہ کامل مومنین ہی ایسی باتوں سے محفوظ رہتے ہیں۔اب دیکھنا تو یہ ہے کہ جسے موسیٰ ہونے کا دعویٰ تھا وہ تو یقیناً کامل مومنین سے ہے۔پس اس کےلیے ضرور تھا کہ طاعون سے محفوظ رہتا کیونکہ یہ ایک عذاب جہنم ہے جس میں خدا کے برگزیدے نہیں پڑ سکتے۔وہ تو اپنی نسبت یہ الہام سناتا تھا کہ ’’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر۔‘‘ اب ایسے عالیشان آدمی کو (اگر وہ واقعی تھا) یہ جہنم (طاعون ) کیوں نصیب ہوا۔یہ تو واقعی عجیب بات ہے کہ جسے وہ فرعون کہتا تو وہ تو اب تک زندہ ہے اور اس کے گھر کا ایک چوہا بھی نہیں مَرا مگر وہ جو موسیٰ تھا وہ طاعون سے مَر گیا جو ایک عذاب جہنم ہے۔کیا خدا کے فرشتہ کو دھوکا ہوگیا؟ جیسے روافض کہا کرتے ہیں کہ وحی نبوت آنی تو علیؓپرتھی مگر بھول کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر چلی گئی۔ایسا ہی طاعون کا فرشتہ بجائے قادیان میں آنے کے لاہور چلا گیا۔اس نکتہ کو خوب یاد رکھنا چاہیے کہ جو معمولی مومن ہو اس کے لیے ممکن ہے کہ تمحیص کے لیے طاعون کے جہنم میں پڑے تاکہ آخرت میں جنّت نصیب ہو۔مگر وہ جو کامل مومنین سے ہو اس کےلیے ہرگز سنّت اللہ نہیں کہ ایسے عذاب میں گرفتار ہو۔بعض لوگوں کی نسبت اعتراض کیا جاتا ہے کہ فلاں تو نماز پڑھتا یا ایسا تھا پھر کیوں اسے طاعون ہوا؟ اصل میں اعمال کا تعلق قلب سے ہے اور قلب کے حالات سے بجز اللہ کے کوئی آگاہ نہیں۔پس نہیں کہہ سکتے کہ فلاں متقی تھا یا مخلص احمدی تھا۔پھر کیوں طاعون سے مَرا؟ کیونکہ ہر انسان کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔کسی کو کیا معلوم کہ فلاں کے دل میں کیا کیا گند بھرے ہیں۔دعا کرتا رہتا تھا تو کیا عیسائی دعا نہیں کرتے؟ کیا وہ بعض اوقات نہیں روتے؟ پس ایسے معاملے خدا کے سپرد ہونے چاہئیں ہاں جب ایمان کا ثبوت ہو تو پھر ایسے طاعون سے مَرنے والے شہید ہیں۔