ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 158

۱۳؍اپریل ۱۹۰۷ء مومن کامل طاعون سے نہیں مَرتا جو کچھ ہے خدا کے ہاتھ میں ہے جو چاہے کرتا ہے بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ (یٰسٓ:۸۴) دیکھو! خدا نے ہم میں اور ہمارے دشمنوں میں کیسا امتیاز رکھا ہے۔یہی قادیان ہے جس میں کئی مَرے اور پھر ہماری جماعت بالکل محفوظ رہی۔ان مسلمانوں میں کئی گدّی نشین ہیں۔کئی الہام کا دعویٰ کرتے ہیں کئی مقربان الٰہی سے بنتے ہیں۔مگر کیا کسی کو یہ بھی وعدہ دیا گیا ہے۔اِنِّیْٓ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ یقیناً نہیں۔اگر کسی کو یہ دعویٰ ہے تو پیش کرے تاکہ اللہ اس کا جھوٹ ثابت کرے۔دیکھو! ان سے جس نے دعویٰ کیا وہ فوراً پکڑے گئے۔جموں کے چراغ دین نے دعویٰ کیا تھا اور پھر الٰہی بخش جو میری نسبت طاعون سے مَرنے کا خیال رکھتا تھا طاعون ہی سے ہلاک ہوئے مومن کامل تو کبھی طاعون سے نہیں مَرتا۔پچھلے تمام انبیاء علیہم السلام کی نظیر موجود ہے کیا کوئی نبی طاعون سے مَرا؟ پھر کامل مومنین حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کی سوانح کو پڑھو۔کیا ان میں سے کوئی طاعون سے مَرا؟ ہرگز نہیں۔کیوں؟ اس لیے کہ تورات و انجیل میں اس طاعون کو عذاب قرار دیا گیا۔گویا ایک قسم کا جہنم ہے۔چنانچہ میرے الہامات میں اکثر جہنم کا ذکر آیا ہے تو اس سے مراد طاعون ہی ہے۔پس مومن کامل تو جہنم سے بالکل محفوظ رکھا جاتا ہے۔اگر وہ اس میں پڑے تو پھر مومن کیسا ہوا؟ خدا بھی فرماتا ہے۔فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ(البقرۃ:۶۰) یعنی طاعون کا عذاب ظالموں اور فاسقوں کے لیے ہے۔یہ مامور من اللہ کے انکار اور فسق کی سزا ہے گویا اس کی خصوصیت کفر کے ساتھ ہے ہاں جو مومن کامل نہیں بلکہ معمولی ہیں چونکہ اللہ تعالیٰ کو ان کی تمحیص مقصود ہوتی ہے اس لیے ممکن ہے کہ انہیں اسی دنیا میں اصلاح کے لیے بطور کفّارہ ذنوب جہنم میں داخل کرلے اوریہ سب فرقہ ہائے اسلام کی مانی ہوئی بات ہے کہ ایک فریق مومنوں کا بھی جہنم میں کچھ مدت کے لیے پڑے گا۔پس ماننا پڑتا ہے کہ بعض مومنوں کو بھی طاعون ہو سکتا ہے مگر یاد رہے وہی مومن جو کامل نہیں۔اسی لیے میرے الہام میں ہے کہ وہ طاعون سے محفوظ رہیں گے