ملفوظات (جلد 9) — Page 157
بوٹیوں کی تلاش میں مارے پھرتے ہیں۔اتنی محنت اگر وہ ان بوٹیوں کے پیدا کرنے والے کے پانے میں کرتے تو سب من مانی مرادیں پا لیتے۔تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو ہماری جماعت کو چاہیے کہ تقویٰ کی راہوں پر قدم ماریں اور اپنے دشمن کی ہلاکت سے بے جا خوش نہ ہوںکہ تورات میں لکھا ہے بنی اسرائیل کے دشمنوں کے بارے میں کہ میں نے ان کو اس لیے ہلاک کیا کہ وہ بد ہیں نہ اس لیے کہ تم نیک ہو۔پس نیک بننے کی کوشش کرو میرا ایک شعر ہے۔؎ ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے ہمارے مخالف جو ہیں وہ بھی متقی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ہر چیز اپنی تاثیرات سے پہچانی جاتی ہے۔نرا زبانی دعویٰ ٹھیک نہیں۔اگر یہ لوگ متقی ہیں تو پھر متقی ہونے کے جو نتائج ہیں وہ ان میں کیوں نہیں؟ نہ مکالمہء الٰہی سے مشرف ہیں نہ عذاب سے حفاظت کا وعدہ ہے۔تقویٰ ایک تریاق ہے جو اسے استعمال کرتا ہے تمام زہروں سے نجات پاتا ہے مگر تقویٰ کامل ہونا چاہیے۔تقویٰ کی کسی شاخ پر عمل پیرا ہونا ایسا ہے جیسے کسی کو بھوک لگی ہو اور وہ دانہ کھالے۔ظاہر ہے کہ اس کا کھانا اور نہ کھانا برابر ہے۔ایسا ہی پانی کی پیاس ایک قطرہ سے نہیں بجھ سکتی۔یہی حال تقویٰ کا ہے۔کسی ایک شاخ پر عمل موجبِ ناز نہیں ہو سکتا۔پس تقویٰ وہی ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا (النحل:۱۲۹) خدا تعالیٰ کی معیت بتا دیتی ہے کہ یہ متقی ہے۔جب سے خالق ہے تب سے مخلوق ہے خدا جب سے خالق ہے تب سے اس کی مخلوق ہے گو ہمیں یہ علم نہ ہو کہ وہ مخلوق کس قسم کی تھی۔غرض نوعی قِدم کے ہم قائل ہیں۔ایک نوع فنا کر کے دوسری بنا دی مگر یہ نہیں کہ جیسے آریہ مانتے ہیں روح مادہ ویسا ہی ازلی ابدی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ۔ہمارا ایمان ہے کہ روح ہو یا مادہ غرض خواہ کچھ ہی ہو اللہ کی مخلوق ہے۔۱