ملفوظات (جلد 9) — Page 152
۱۰؍اپریل ۱۹۰۷ء (بوقتِ سیر) اچھی تلاوت کو پسند فرمانا صبح کو حضرت سیر کے واسطے تشریف لے گئے۔خدام ساتھ تھے۔حافظ محبوب الرحمٰن صاحب جو کہ اخویم منشی حبیب الرحمٰن صاحب رئیس حاجی پورہ اور بھائی جان منشی ظفر احمد صاحب کے عزیزوں میں سے ہیں ساتھ تھے۔حضرت نے حافظ صاحب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ قرآن شریف اچھا پڑھتے ہیں اور میں نے اسی واسطے ان کو یہاں رکھ لیا ہے کہ ہر روز ان سے قرآن شریف سنا کریں گے۔مجھے بہت شوق ہے کہ کوئی شخص عمدہ، صحیح، خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنے والا ہو تو اس سے سنا کروں۔پھر حافظ صاحب موصوف کو مخاطب کر کے حضرت نے فرمایا کہ آج آپ سیر میں کچھ سنائیں۔چنانچہ تھوڑی دور جا کر آپ نہایت سادگی کے ساتھ ایک کھیت کے کنارے زمین پر بیٹھ گئے اور تمام خدام بھی زمین پر بیٹھ گئے اور حافظ صاحب نے نہایت خوش الحانی سے سورۃ دہر پڑھی جس کے بعد آپ سیر کے واسطے آگے تشریف لے گئے۔اخبارات میں قرآن کریم کی آیات فرمایا۔بڑا افسوس ہے کہ قرآن شریف کی جو آیات اخبار الحکم اور بدر میں لکھی جاتی ہیں ان میں اکثر غلطیاں ہوتی ہیں۔اخبار والوں کو بہت احتیاط کرنی چاہیے۔مخالفین کا انجام ذکر تھا کہ لیکھرام کی یادگار میں ایک رسالہ نکلتا ہے۔چونکہ لیکھرام نے اپنا نام آریہ مسافر لکھا تھا اس واسطے اس رسالہ کا نام بھی آریہ مسافر رکھا گیا ہے۔حضرت نے فرمایا کہ وہ تو اپنے اعتراضات کا جواب اپنی موت کے ساتھ آپ ہی دے گیا ہے۔وہ مسافر بنتا تھا۔