ملفوظات (جلد 9) — Page 148
ملفوظات حضرت مسیح موعود الد ٧ جلد نهم فرمایا۔ جو دعائیں قرآن شریف میں ہیں ان میں کوئی تغیر جائز نہیں کیونکہ وہ کلام الہی ہے وہ جس طرح قرآن شریف میں ہے اسی طرح پڑھنا چاہیے ۔ ہاں حدیث میں جو دعائیں آئی ہیں ۔ ان او کے متعلق اختیار ہے کہ صیغہ واحد کی بجائے صیغہ جمع پڑھ لیا کریں ۔ اے یکم اپریل ۱۹۰۷ء (بوقتِ سیر) طاعون زدہ علاقوں کے احمدیوں کے واسطے حکم صبح کو حضرت اقدس بیع خدام با ہر سیر کے واسطے تشریف لے گئے ۔ راستہ میں عاجز کے راقم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اخبار میں چھاپ دو اور سب کو اطلاع کر دو کہ یہ دن خدا تعالیٰ کے غضب کے دن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کئی بار مجھے بذریعہ وحی فرمایا ہے کہ غَضِبْتُ غَضَبًا شَدِيدًا ۔ آجکل طاعون بہت بڑھتا جاتا ہے اور چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے۔ میں اپنی جماعت کے واسطے خدا تعالیٰ سے بہت دعا کرتا ہوں کہ وہ اس کو بچائے رکھے ۔ مگر قرآن شریف سے یہ ثابت ہے کہ جب قہر الہی نازل ہوتا ہے تو بدوں کے ساتھ نیک بھی لپیٹے جاتے ہیں اور پھر ان کا حشر اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہوگا۔ دیکھو! حضرت نوح کا طوفان سب پر پڑا۔ اور ظاہر ہے کہ ہر ایک مرد عورت اور بچے کو اس سے پورے طور پر خبر نہ تھی کہ نوح کا دعوئی اور اس کے دلائل کیا ہیں ۔ جہاد میں جو فتوحات ہوئیں وہ سب اسلام کی صداقت کے واسطے نشان تھیں۔ لیکن ہر ایک میں کفار کے ساتھ مسلمان بھی مارے گئے ۔ کافر جہنم کو - گیا اور مسلمان شہید کہلایا۔ ایسا ہی طاعون ہماری صداقت کے واسطے ایک نشان ہے اور ممکن ہے کہ اس میں ہماری جماعت کے بعض آدمی بھی شہید ہوں ۔ ہم خدا تعالیٰ کے حضور دعا میں مصروف ہیں کہ وہ ان میں اور غیروں میں تمیز قائم رکھے لیکن جماعت کے آدمیوں کو یا درکھنا چاہیے کہ صرف ہاتھ پر ہاتھ ے بدر جلد ۶ نمبر ۱۴ مورخه ۴ را پریل ۱۹۰۷ صفحه ۶ ے حضرت مفتی محمد صادق ایڈیٹر بدر (مرتب)