ملفوظات (جلد 9) — Page 144
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۴ ذکر ہوا کہ اس سال طاعون بہت پھیل رہی ہے اور پچھلے سالوں کی طاعون سے بچنے کا طریق طرح صرف عام لوگ گرفتارنہیں ہوتے بلکہ خواص اور بڑے بڑے امیر ہلاک ہو رہے ہیں جیسا کہ اخباروں میں درج ہو رہا ہے۔ جلد نهم فرمایا۔ باوجود اس سختی کے جو طاعون کے سبب وارد ہو رہی ہے لوگ اس طرف اب تک نہیں آتے کہ دنیوی حیلے تو سب فضول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا چاہیے بلکہ ابھی تک لوگ یہی تجاویز پیش کرتے ہیں کہ مچھروں کو مارو اور پسوؤں کو مار لیکن جب تک اپنے آپ کو مارنے کی طرف متوجہ نہ ہوں گے وہ کبھی نجات نہ پائیں گے۔ محنت کا پھل ذکرتھا کہ جو اگ در اصل خداتعالی کے اب نہیںہیں لیکن یا کے طورپر یا غلط راہ پر چل ر لمبی عبادتیں کرتے ہیں ان کو بھی کچھ کچھ ظاہری قبولیت اور فوائد حاصل ہو ہی جاتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا ۔ چونکہ ایک محنت شاقہ اٹھاتے ہیں اس کا عوض کچھ نہ کچھ ان کو دے دیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک گبر چالیس سال تک ایک جگہ آگ پر بیٹھا رہا اور اس کی پرستش میں مصروف رہا۔ چالیس سال کے بعد جب وہ اٹھا تو لوگ اس کے پاؤں کی مٹی آنکھ میں ڈالتے تھے تو ان کی آنکھ کی بیماری اچھی ہو جاتی تھی ۔ اس بات کو دیکھ کر ایک صوفی گھبرایا اور اس نے سوچا کہ جھوٹے کو یہ کرامت کس طرح سے مل گئی اور وہ اپنی حالت میں مذبذب ہو گیا۔ اس پر ہاتف کی آواز اسے پہنچی جس نے کہا کہ تو کیوں گھبراتا ہے؟ سوچ کہ جب جھوٹے اور گمراہ کی محنت کو خدا تعالیٰ نے ضائع نہیں کیا تو جو سچا اس کی طرف جائے گا اس کا کیا درجہ ہوگا ؟ اور اس کو کس قدر انعام ملے گا۔ تم اس زمانہ میں نہیں دیکھتے کہ پادری لوگ باوجود جھوٹے ہونے کے اپنی محنت کے سبب چالیس کروڑ اپنے ساتھ لیے پھرتے ہیں ۔ توفی کے معنی - فرمایا ۔ آج علی گڑھ سے ماسٹر محمد دین صاحب کا خط آیا ہے۔ انہوں نے خوب لطیفہ لکھا ہے کہ مصر کے اخباروں میں بھی ڈوٹی کے مرنے کی خبریں لکھی ہیں ۔ ایک عربی اخبار تو لکھتا ہے کہ مات ڈوئی اور دوسرا لکھتا ہے توفی ڈوئی۔ آپس میں تو انہوں نے فیصلہ کر دیا کہ توفی کے معنے مات کے ہیں لیکن ہمارے مولوی کہیں عربی اخباروں کو پڑھ کر اس کی جگہ