ملفوظات (جلد 9) — Page 141
ہو سکتا۔اس کا اصل شعبہ عیسائیت ہے اور بعض مدارج کے حصول کے واسطے کھلے طور پر بپتسمہ لینا ضروری ہوتا ہے۔اس لیے اس میں داخل ہونا ایک ارتداد کا حکم رکھتا ہے۔۱ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۷ء دعا جامع کرنی چاہیے ایک دوست نے کسی خاص چیز کے حصول کے واسطے عرض کیا۔فرمایاکہ یہی دعا کرو کہ جو اَمر اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہتر ہے وہی ہوجائے کیونکہ بعض دفعہ انسان ایک چیز کو اپنے لیے بہتر سمجھ کر خدا تعالیٰ سے دعا مانگتا ہے وہ حاصل ہو جاتی ہے لیکن اور شر اس سے پیدا ہوتا ہے جو پہلے شر سے بڑھ کر ہوتا ہے اس واسطے دعا جامع کرنی چاہیے۔میں آپ کے واسطے دعا کرتا ہوں کہ خدا آپ کو محفوظ رکھے اور دراصل محفوظ رکھنے والا وہی ہے۔حضرت عیسٰیؑ کی دوبارہ آمد فرمایا۔ایک دفعہ حضرت عیسٰیؑ زمین پر آئے تھے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ کئی کروڑ مشرک دنیا میں ہوگئے۔دوبارہ آکر وہ کیا بنائیں گے کہ لوگ ان کے آنے کے خواہش مند ہیں۔۲ ۲۱؍مارچ ۱۹۰۷ء پھر بہار آئی تو آئے ثلج کے آنے کے دن۳ فرمایاکہ دیکھو! ثلج کے آنے کے دن والی پیشگوئی کس طرح پوری ہوگئی اور میں نےا س کے دو پہلو لیے تھے ایک تو یہ کہ خدا کچھ ایسے نشان دکھائے جن کی وجہ سے لوگوں پر حجّت قائم ہوجائے اور دل تسکین پکڑ جائے اور دوسرا یہ کہ سخت بارش اور سردی اور ژالہ باری ہو جو بدر جلد ۶ نمبر ۱۳ مورخہ ۲۸؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۹ ۲ بدر جلد ۶ نمبر ۱۹ مورخہ ۹؍مئی ۱۹۰۷ء صفحہ ۵ ۳ بدر میں یہ ملفوظات تشحیذ الاذہان سے نقل کیے گئے ہیں۔(مرتّب)