ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 140

ویدوں کی حیثیت فرمایا۔تعجب ہے کہ آریہ لوگ ویدوں کےکیوں شیدائی بنے پھرتے ہیں۔نہ ان میں کوئی معجزہ ہے نہ کوئی نشان ہے نہ کوئی عمدہ تعلیم ہے۔بلکہ ان لوگوں نے اس کو دیکھا نہیں۔اس کو پڑھا نہیں۔ان کے بڑے بڑے پنڈت اس کے فہم سے قاصر ہیں۔کیونکہ اوّل تو سنسکرت خود مُردہ زبان ہے پھر ویدوں کی سنسکرت اور بھی نرالی ہے۔باوجود اس قدر جہالت کے یہ لوگ شوخیاں دکھاتے ہیں اور نہیں جانتے کہ شوخی اچھی نہیں ہوتی۔اس کا انجام بد ہوتا ہے۔اپنی شوخیوں سے ہی آدمی مارا جاتا ہے۔کثرتِ ملاقات کی برکات سیالکوٹ کے ایک مولوی صاحب کا ذکر ہوا کہ وہ ایک جگہ مخالف مولویوں کےساتھ مباحثہ کرنے گئے ہیں۔فرمایا۔مباحثات کا حق ان کو نہیں پہنچتا کیونکہ وہ ہماری ملاقات سے بہت تھوڑا حصہ لیے ہوئے ہیں اور ان کو ہماری صحبت میں رہنے کا اتفاق بہت تھوڑا ہوا ہے اور جو ہوا ہے اس کو بہت مدت گذر چکی ہے۔یہاں دن رات نئے دلائل پیدا ہوتے ہیں۔صرف کتابوں کے دیکھنے سے کام نہیں چلتا بلکہ حاضری شرط ہے کیونکہ علم میں دن بدن ترقی ہوتی ہے۔حضرت مولوی محمد احسن صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا۔ہاں یہ حق آپ کو پہنچتا ہے کیونکہ آپ کی توجہ دن رات اسی کام کی طرف ہے۔پرانی باتیں بھی آپ کے ذہن نشین ہیں اور تازہ باتیں بھی آپ کے دماغ میں ہیں اور آپ کو اس سلسلہ کے امور اور دلائل سے اچھی طرح واقفیت ہے جب تک ایسا آدمی نہ ہو اس سے خطرہ ہے کہ لاعلمی کے سبب کہیں ٹھوکر کھائے۔مسلمان کے لیے فری میسن ہونا ارتداد کا حکم رکھتا ہے امیر کابل کا ذکر تھا کہ اس کے فری میسن ہونے کے سبب اس کی قوم اس پر ناراض ہے۔فرمایا۔اس ناراضگی میں وہ حق پر ہیں کیونکہ کوئی موحد اور سچا مسلمان فری میسن میں داخل نہیں