ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 5

گئی ہے۔جس مذہب والے سے ملے اسی کی تعریف کر دی۔خدا تعالیٰ اس سے راضی نہیں۔صحابہؓ میں بعض بڑے دولت مند تھے اور دنیا کے تمام کاروبار کرتے تھے اور اسلام میں بہت سے بادشاہ گذرے ہیں جو درویش سیرت تھے۔تختِ شاہی پر بیٹھے ہوئے ہوتے تھے لیکن دل ہر وقت خدا کے ساتھ ہوتا۔مگر آجکل تو لوگوں کا یہ حال ہے کہ جب دنیا کی طرف جھکتے ہیں تو ایسے دنیا کے ہوجاتے ہیں کہ دین پر ہنسی کرتے ہیں۔نماز پر اعتراض کرتے ہیں اور وضو پر ہنسی اڑاتے ہیں۔یہ لوگ ساری عمر تو دنیوی علوم کے پڑھنے میں گذار دیتے ہیں اور پھر دین کے معاملات میں رائے زنی کرنے لگتے ہیں۔حالانکہ انسان کسی مضمون میں عمیق اسرار تب ہی نکال سکتا ہے جب اس کو اس اَمر کی طرف زیادہ توجہ ہو۔ان لوگوں کو دین کے متعلق مصالح، معارف اور حقائق سے بالکل بے خبری ہے۔دنیا کی زہریلی ہوا کا ان لوگوں کے دلوں پر زہرناک اثر ہے۔دنیائے فانی فرمایا۔دنیا کا انجام تو ظاہر ہے اور اس کا نتیجہ ہر روز ہمارے سامنے اپنی مثالیں پیش کرتا رہتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ آج ایک شخص زندہ ہے اور کل فوت ہوجاتا ہے طاعون کی موت کو دیکھو کتنی جلدی آجاتی ہے۔آناً فاناً سینکڑوں مَر جاتے ہیں۔گورنمنٹ نے بھی ٹکریں ماریں اور تدبیریں کیں مگر آج تک کچھ بن نہیں سکا۔خدا کا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔دنیا کبھی وفا نہیں کر سکتی۔انسان ضرور مَر جائے گا اور گھر تو قبر میں ہے۔پس دنیا کے ساتھ دل لگانے سے کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے؟ ذاتِ خدا ایک ذات در پردہ ہے جو اپنے وجود کو اپنے قہری نشانات کے ساتھ دنیا پر ظاہر کرتی ہے تاکہ دنیا کو معلوم ہو اور ثابت ہو کہ وہ موجود ہے۔عقلمند آدمی اس کے نشانات سے اس کو پہچانتا ہے۔اسلام اور دیگر مذاہب فرمایا۔عیسائیوں کا کیا دین ہے کہ ایک انسان کو خدا بنایا گیا ہے اور ہند میں تو اکثر عیسائی اس قسم کے ہیں کہ اگر آج ان کی تنخواہ بند ہوجاوے تو عیسائیت کو چھوڑ کر فوراً علیحدہ ہو بیٹھیں۔